قومی

Mahatma Gandhi Death Anniversary: جب مہاتما گاندھی نے ’عدم تشدد‘ کو بنایا آزادی کا سب سے طاقتور ہتھیار

نئی دہلی: بھارت کی آزادی میں مہاتما گاندھی کی عظیم قربانی کو یاد کرنے کے لیے ہر سال 30 جنوری کو ان کی یومِ شہادت منائی جاتی ہے۔ 30 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی کی شہادت بھارتی تاریخ کا ایک نہایت اہم لمحہ تھی، جب ملک نے عدم تشدد، سچائی اور اتحاد کے لیے کھڑے ایک عظیم رہنما کو کھو دیا۔ آزادی کی تحریک کے ساتھ ساتھ مہاتما گاندھی نے معاشرے کے ہر طبقے کی فلاح کے لیے کام کیا۔

بابائے قوم مہاتما گاندھی اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے کہ عدم تشدد کمزوروں کا ہتھیار نہیں بلکہ بہادروں کی طاقت ہے۔ یہ نفرت کے بغیر ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے، ظلم کے مقابلے میں بے رحمی کے بغیر ڈٹ جانے اور غلبے کے ذریعے نہیں بلکہ احترام کے ذریعے امن قائم کرنے کی قوت ہے۔

مہاتما گاندھی نے ان اصولوں کی صرف تبلیغ ہی نہیں کی بلکہ اپنی پوری زندگی میں ان پر عمل بھی کیا۔ آج کے اس پرخطر اور منقسم دور میں گاندھی جی کی اس سوچ کو محض یاد کرنا ہی نہیں بلکہ اسے اپنانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

برطانوی اقتدار سے بھارت کی آزادی کی جدوجہد میں مہاتما گاندھی کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ عدم تشدد اور پُرامن مزاحمت کے راستے پر چلتے ہوئے انہوں نے لاکھوں ہندوستانیوں کو پُرامن احتجاج، بائیکاٹ اور بھوک ہڑتالوں کے ذریعے آزادی کی جدوجہد میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔ بالخصوص 1930 کا ڈانڈی مارچ ظلم و جبر کے مقابلے میں اہنسا کی طاقت پر ان کے پختہ یقین کی واضح مثال ہے۔

مہاتما گاندھی کے نزدیک اہنسا محض ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں تھی بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی تھی، جو اس یقین پر مبنی تھی کہ پائیدار امن صرف پُرامن ذرائع سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا، “عدم تشدد انسانیت کے پاس سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہ تباہی کے سب سے ہولناک ہتھیار سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔”

ان کا یہ نظریہ دنیا بھر کی تحریکوں کے لیے باعثِ تحریک بنا، چاہے وہ امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی شہری حقوق کی جدوجہد ہو یا جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کی نسل پرستی کے خلاف لڑائی۔ گاندھی کے خیالات نے بے شمار رہنماؤں اور تحریکوں کو متاثر کیا اور مزاحمت کے ساتھ ساتھ اصلاح کے ایک طاقتور ذریعہ کے طور پر عدم تشدد کی عالمگیر اپیل کو اجاگر کیا۔

ان کا فلسفہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ امن کوئی دور کا خواب نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول مقصد ہے۔ ان کی تعلیمات امید، ہم آہنگی اور باہمی احترام کا ایک لازوال پیغام دیتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

10 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

11 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

12 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

13 hours ago