خالصتان کے حامیوں نے لندن میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی گاڑی کے سامنے احتجاج کیا جس کے بعد ان کی سیکورٹی پر سوالات اٹھنے لگے۔ اس سلسلے میں، برطانیہ کی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ ہم وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے دورہ برطانیہ کے دوران چتھم ہاؤس کے باہر پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ برطانیہ پرامن احتجاج کے حق کی حمایت کرتا ہے، لیکن عوامی تقریبات کو ڈرانے، دھمکانے یا رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ یاد رہے کہ لندن میں خالصتان کے حق میں نعرے لگانے والے مظاہرین کے ایک چھوٹے گروپ میں سے ایک شخص نے حفاظتی حصار توڑ کر وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی گاڑی کو روکنے کی کوشش اس وقت کی جب وہ تھنک ٹینک چتھم ہاؤس کے ہیڈکوارٹر سے نکل رہے تھے۔ بھارت علیحدگی پسندوں اور انتہا پسندوں کے اس چھوٹے گروپ کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کی مذمت کرتا ہے۔ ہندوستان نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی سیکورٹی میں کوتاہی کے واقعہ کی مذمت کی اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سفارتی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔
حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم:برطانیہ
برطانیہ کے دفتر خارجہ نے کہاکہ میٹرو پولیٹن پولیس نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیزی سے کام کیا اور ہم اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اپنے تمام سفارتی زائرین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔کمیونٹی آرگنائزیشن انسائٹ یو کے نے واقعے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شرمناک ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ڈاکٹر ایس جے شنکر برطانیہ کے دورے پر ہیں اور انہوں نے برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی سے کامیاب ملاقات کی جہاں انہوں نے دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہاکہ ہم نے وزیر خارجہ کے دورہ برطانیہ کے دوران ہونے والی سیکورٹی لیپس کی فوٹیج دیکھی ہے۔ ہم علیحدگی پسندوں اور انتہا پسندوں کے اس چھوٹے گروپ کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ایسے معاملات میں میزبان حکومت اپنی سفارتی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کرے گی۔
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم مودی سمیت لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و…
شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ…
شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…
۔اس معاملے میں بس کی نگرانی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے۔ بتایا گیا…
میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…
برطانوی حکومت نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو 23 مارچ 1931 کو…