قومی

Bihar Politics: ’’تاڑی کے نام پر پاسی برادری کو پریشان کرنا بند کرے ریاستی حکومت…‘‘، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کا بیان

پٹنہ: بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے جمعرات کے روز ایک بار پھر دوہرایا کہ اگر ریاست میں مہاگٹھ بندھن حکومت بنتی ہے تو 100 فیصد ڈومیسائل لاگو کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں شراب پر پابندی پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے حکومت سے تاڑی کے نام پر پاسی برادری کو ہراساں کرنا بند کرنے کی بھی بات کہی۔

تیجسوی یادو نے آر جے ڈی دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بہار کے دورے کے دوران بکسر سے واپس آتے ہوئے انہیں بیہیا میں کسانوں اور مزدوروں سے ملنے کا موقع ملا۔ اسی سلسلے میں پاسی برادری کے لوگوں اور لیڈروں نے بھی ان سے ملاقات کی اور بتایا کہ ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ تاڑی ہے جسے موجودہ حکومت نے بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے فاقہ کشی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ فی الحال حکومت نے تاڑی کی جگہ نیرا اسکیم شروع کی ہے۔ لیکن، یہ کارگر ثابت نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس پاسی برادری کے لوگوں کو تاڑی کے نام پر ہراساں کرتی ہے۔ انہیں سماجی اور معاشی ہراسانی کا بھی سامنا ہے۔ پاسی برادری کے لوگوں نے بتایا کہ تاڑی ایک قدرتی مادہ ہے۔ لیکن اسے آمدنی کے ذرائع سے الگ کر دیا گیا ہے، جس سے کہیں نہ کہیں اسے ذہنی اور جسمانی طور پر اذیت بھی دی جا رہی ہے۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ آج شراب بندی کی کیا حیثیت ہے، اس کا اندازہ پٹنہ ہائی کورٹ کے اس تبصرہ سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شراب پر پابندی اپنے مقاصد سے ہٹ گئی ہے اور پولیس شراب کے اسمگلروں کے ساتھ مل کر مافیا کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ شراب پر پابندی کے نفاذ کے بعد بہار میں لگ بھگ 13 لاکھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 99 فیصد پسماندہ اور دلت طبقے سے تھے۔ اس معاملے میں پاسی برادری کے لوگوں کو سب سے زیادہ پریشان کیا جا رہا ہے۔ بہار میں شراب پر پابندی کے بعد 8.33 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے خلاف کیس درج کیے گئے ہیں۔ ہر ماہ 12,800 افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ شراب پر پابندی کے بعد بھی بہار میں زہریلی شراب سے دو ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور حکومت کی طرف سے کوئی معاوضہ نہیں دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہماری حکومت بنتی ہے تو مسابقتی امتحان کے لیے فارم بھرتے وقت نوجوانوں سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی اور امیدواروں کو امتحانی مرکز آنے اور جانے کے لیے کرایہ کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے رہائش کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ اگر ہماری حکومت بنی تو نشہ چھڑانے کی مہم چلائی جائے گی اور پاسی برادری کے لوگوں کو 2016 کے ایکٹ سے تاڑی کو نکال کر ریلیف دیا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

8 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

8 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

9 hours ago