امریکہ اوراسرائیل کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے معاملے میں کانگریس لیڈرراہل گاندھی نے وزیراعظم نریندرمودی پرسخت تنقید کی ہے۔ راہل گاندھی نے ہندوستانی حکومت کوایران جنگ اورآیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل سے متعلق اپنا رخ اخلاقی طورپرواضح کرنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی وزیراعظم مودی کی خاموشی پرسوال بھی اٹھایا ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم مودی کسی سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں؟
کانگریس کے سابق صدراوررکن پارلیمنٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وزیراعظم مودی کی ”خاموشی“ سے دنیا بھرمیں ہندوستان کی شبیہ خراب ہو رہی ہے۔ انہیں اپنے رخ کوکھل کربتانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پرامریکہ اوراسرائیل کے حملے اورکئی خلیجی ممالک پرایرانی حملے، دونوں کی مذمت کی جانی چاہئے۔ کیونکہ جنگ ہرمسئلے کا حل نہیں ہوتا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ”امریکہ، اسرائیل اورایران کے درمیان بڑھتی دشمنی ایک حساس خطے کووسیع ترتنازعات کی طرف دھکیل رہی ہے۔ لاکھوں افراد بشمول تقریباً 10 ملین ہندوستانی شہریوں کوغیریقینی صورتحال کا سامنا ہے۔“
مذاکرات اورتحمل ہی امن کا واحد راستہ
انہوں نے مزید کہا، ”سیکیورٹی کے خدشات حقیقی ہیں اورخودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والے حملے صرف بحران میں اضافہ کریں گے۔ ایران پریکطرفہ حملوں کے ساتھ ساتھ دیگر مغربی ایشیائی ممالک پرایران کے حملوں کی مذمت کی جانی چاہئے۔ تشدد، تشددکوجنم دیتا ہے، مذاکرات اورتحمل ہی امن کا واحد راستہ ہے۔“ انہوں نے اس بات پرزوردیا کہ ہندوستان کا اخلاقی طورپرواضح رخ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی قوانین اورکہا کہ بھارت کواخلاقی طورپرواضح موقف اختیارکرنا چاہئے۔ راہل گاندھی نے کہا، ’’ہمیں بین الاقوامی قوانین اور انسانی زندگی کے دفاع میں واضح طورپربولنے کی ہمت ہونی چاہئے۔ ”ہماری خارجہ پالیسی خودمختاری اورتنازعات کے پرامن حل پرمبنی ہے اوراسے مستقل رہنا چاہئے۔“
ہندوستان کو اپنی اخلاقی طاقت کو پھرکرنا ہوگا مضبوط: سونیا گاندھی
روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سونیا گاندھی نے کہا کہ اخلاقی طاقت کو”دوبارہ دریافت“ کرنے اوراس کا واضح اورعزم کے ساتھ اظہارکرنے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ”یکم مارچ کوایران نے تصدیق کی کہ اس کے سپریم لیڈر، آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کوایک دن پہلے امریکہ اوراسرائیل کی طرف سے کئے گئے ٹارگٹ حملوں میں قتل کردیا گیا تھا۔ جاری مذاکرات کے درمیان ایک موجودہ سربراہ مملکت کا قتل عصری بین الاقوامی تعلقات میں سنگین دراڑپیدا کرتا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود، اس حیران کن واقعہ پرنئی دہلی کی خاموشی بھی حیران کن ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ ہندوستانی حکومت نے نہ تواس قتل کی مذمت کی ہے اورنہ ہی ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کئے جانے پرسوال اٹھایا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
دیپیکا پڈوکون نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر مداحوں کے ساتھ یہ خوشخبری شیئر کی۔…
امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے…
اندور میں منعقد ہونے والا ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام اس مہم کا پانچواں ایڈیشن ہے۔…
ایرانی عدلیہ کے مطابق حسین پدران نے اصفہان میں فوجی اور میزائل تنصیبات سے متعلق…
مرکزی وزیر نے کہا، پروگرام کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پارٹی میں کسی طرح کا…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اے بی وی…