قومی

Kerala Assembly Elections 2026: ’میرے خلاف 36 مقدمات درج کیے، لیکن…‘ کیرالہ انتخابی مہم کے دوران راہل گاندھی نے سی پی ایم اور بی جے پی کو بنایا نشانہ

راہل گاندھی نے کیرالہ اسمبلی انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے دوران ریاست کے شہر کنور میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حکمراں بائیں بازو کی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ میں اصل لڑائی نظریات کی ہے، جہاں ایک طرف کانگریس اور متحدہ جمہوری محاذ کی سوچ ہے جبکہ دوسری جانب بائیں بازو کی حکومت اپنے اصولوں سے ہٹ چکی ہے۔ راہل گاندھی نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت اب حقیقی بائیں بازو کی نمائندہ نہیں رہی۔ ان کے مطابق سی پی ایم اب انتہائی دائیں بازو کی طرح کام کر رہی ہے اور کارپوریٹ مفادات کے قریب ہو چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ حکومت اپنے بنیادی نظریات سے بھٹک چکی ہے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

کانگریس لیڈر نے اس موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی پر بھی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ کیرالہ میں بی جے پی اور بائیں محاذ کے درمیان بالواسطہ اتحاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ ریاست میں بائیں بازو کی حکومت برقرار رہے کیونکہ اس سے انہیں سیاسی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں بظاہر ایک دوسرے کی مخالفت کرتی ہیں لیکن عملی طور پر ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ ریلی کے دوران راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وزیر اعظم ملک کے دیگر حصوں میں مذہبی معاملات پر بات کرتے ہیں، لیکن کیرالہ آنے پر سبری مالا مندر کے مسئلے پر خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سبری مالا سے متعلق معاملات میں مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

راہل گاندھی نے صنعت کار گوتم اڈانی کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی پر حملہ کیا اور کہا کہ اڈانی پارٹی کی مالی ساخت کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیرون ملک اڈانی سے متعلق چلنے والی تحقیقات کا اثر بھارتی سیاست پر بھی پڑتا ہے اور اس سے حکومت کی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔

اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے خلاف 36 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی سیاسی مخالفین کو دبانے اور ڈرانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن ریاستی حکومت کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ کے عوام ترقی، روزگار اور تعلیم کے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ اگر کانگریس اور متحدہ جمہوری محاذ کو موقع ملا تو وہ ریاست میں شفاف حکومت فراہم کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں تبدیلی کے لیے ووٹ دیں اور بہتر مستقبل کے لیے کانگریس کا ساتھ دیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

11th Whiteswan Responsible Art Festival: 11واں وائٹ سوان آرٹ فیسٹیول: کتھک رقاصہ سنیہا مکھرجی نے مسحور کن پیشکش سے باندھا سماں

سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…

43 minutes ago

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

16 hours ago