جمعیۃ علماء ہند کی میٹنگ کے بعد جمعیت کے صدر مولانا محمود مدنی نے وقف ایکٹ میں ترامیم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران محمود مدنی نے الزام لگایا کہ یہ قانون مسلم کمیونٹی اور سماج کے مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے تمام تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسد الدین اویسی کے خلاف احتجاج کی حمایت میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں۔ اس دوران مرشد آباد میں تشدد کے بارے میں جب سوال پوچھاگیا تو محمود مدنی غصے میں آگئے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کے حامیوں نے ملک اور میڈیا میں جو پیغام دیا ہے وہ یہ تھا کہ اگر پرانا وقف ایکٹ ہوتا تو وقف بورڈ جو چاہے کرسکتا تھا۔ پہلے وقف بھی قواعد کے مطابق بنائے گئے تھے، جس میں مسلم معاشرے کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جس سیاسی پارٹی نے حکومت بنائی، وہی حکومت وقف بورڈ تشکیل دیتی تھی۔ ایسا پہلے بھی ہوتا تھا اور اب یہ ہوگا کہ حکومت اپنی پسند کے لوگوں کو بورڈ میں شامل کرے گی۔ وہ جماعت جو 2009 تک کہتی تھی کہ مسلمانوں کی زمین پر قبضہ ہوا ہے، اب وہی پارٹی ہمیں قابض کہہ رہی ہے۔ یہ وقف کا نہیں سیاست کا معاملہ ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران جب محمود مدنی سے مغربی بنگال کے مرشد آباد میں تشدد کے بارے میں سوال پوچھا گیاتو وہ غصے میں آگئے۔ انہوں نے کہا، ‘جو سوال آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں، آپ کو وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھنا چاہیے کہ مرشد آباد کیوں جل رہا ہے؟ کیا آپ اس کے لیے بھی مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرائیں گے؟
مولانا مدنی نے وقف قانون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون نہ تو معاشرے کے لیے درست ہے اور نہ مسلمانوں کے لیے۔ پہلے زمین پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات چلتے تھے لیکن نئے قانون میں اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ آپ بلڈرز کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اس ملک کے شہری ہیں اور ہم نے اس کے لیے جدوجہد کی ہے۔ آزاد ہندوستان کے بانیوں نے کچھ وعدے کیے تھے، لیکن اب ہماری بات نہیں سنی جارہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…