قومی

Rajasthan govt reached Supreme Court: وقف قانون کے خلاف عدالتی جنگ میں راجستھان حکومت کی انٹری،فریق بننے کی عرضی کردی داخل

وقف ترمیمی بل 2025 اب قانون بن چکا ہے۔ لیکن اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔ کانگریس، اے اے پی، اے آئی ایم آئی ایم جیسی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ کئی مسلم تنظیموں نے بھی وقف ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ وقف ایکٹ کو عدالت میں دیے جارہے چیلنجوں کے درمیان راجستھان کی بھجن لال شرما حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ وقف ایکٹ پر عدالتی جنگ میں راجستھان کی بی جے پی حکومت اب سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ تاہم راجستھان حکومت نے وقف ایکٹ کے خلاف نہیں بلکہ ایک فریق کے طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

درحقیقت راجستھان کی بھجن لال شرما حکومت نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 میں فریق بننے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ راجستھان حکومت کی درخواست پر سماعت 16 اپریل کو ہونے والی ہے۔ معاملے میں راجستھان حکومت نے کہا ہے کہ وہ وقف ایکٹ میں تاریخی اصلاحات کا دفاع کرنا چاہتی ہے۔ بھجن لال کی قیادت والی راجستھان حکومت نے وقف (ترمیمی) ایکٹ، 2025 کی آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کے بیچ میں خود کو پیش کرنے کی اجازت مانگتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

ریاست راجستھان کی جانب سے مداخلت کے لیے یہ درخواست قانونی مشورہ لینے اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل شیو منگل شرما سے تفصیلی بات چیت کے بعد دائر کی گئی ہے، جنہوں نے خود مداخلت کی یہ درخواست تیار کی اور اسے معزز سپریم کورٹ میں داخل کیا۔راجستھان حکومت نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس کا اس معاملے میں براہ راست، اہم اور قانونی طور پر محفوظ مفاد ہے کیونکہ ریاست وقف املاک کے نظم و نسق اور نظم و ضبط کے لیے پرنسپل ایگزیکٹو اتھارٹی ہے۔ مداخلت کی یہ درخواست معزز عدالت کے سامنے ایکٹ 2025 کے پیچھے قانون سازی کی نیت، آئینی دلیل اور انتظامی حقائق کو پیش کرنے کے مقصد سے دائر کی گئی ہے، جسے قومی سطح پر وسیع مشاورت کے بعد منظور کیا گیا تھا۔

راجستھان حکومت نے وقف ایکٹ کا دفاع کیا

ریاستی حکومت نے ایکٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک شفاف اور آئینی اصلاحات ہے جس کا مقصد سرکاری اور نجی اراضی کو وقف املاک کے طور پر من مانی طور پر اعلان کرنے کے عمل کو روکنا ہے۔ راجستھان حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا رجحان ہے جس نے اکثر عوامی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔ایکٹ میں ایک بڑی اصلاح یہ ہے کہ اب یہ کسی بھی زمین کو وقف کے طور پر درج کرنے سے پہلے 90 دن کا پبلک نوٹس جاری کرنا اور اعتراضات درج کرنے کا انتظام لازمی بناتا ہے، تاکہ یہ عمل منصفانہ ہو اور متاثرہ فریقین کے حقوق محفوظ ہوں۔

ریاست نے یہ بھی کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے متفقہ طور پر اس ایکٹ کی حمایت کی جس نے 284 اسٹیک ہولڈرز (بشمول 25 ریاستی وقف بورڈ، 15 ریاستی حکومتیں، سماجی تنظیمیں اور قانونی ماہرین) کے خیالات کو مدنظر رکھا۔ حکومت نے یہ بھی دلیل دی ہے کہ یہ ایکٹ آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت مذہبی آزادی کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور نہ ہی آرٹیکل 14 اور 15 کے تحت مساوات کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے جیسا کہ درخواستوں میں دعویٰ کیا گیا ہے۔راجستھان حکومت نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں ایک تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کی اجازت دے اور اعداد و شمار پر مبنی تقابلی قانونی نقطہ نظر اور تجربات کے ذریعے عدالت کی مدد کرے، تاکہ عدالت متوازن اور باخبر فیصلے پر پہنچ سکے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

3 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

3 hours ago