نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے کبھی بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتے، کیونکہ عوامی زندگی میں رہتے ہوئے انسان کے اندر ایک مثبت بے چینی کا ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہی بے چینی بہتر کارکردگی، تیز رفتار اصلاحات اور مسلسل آگے بڑھنے کی تحریک فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک اور عوام کے لیے مزید بہتر کرنے کی خواہش ہی ان کی اصل طاقت ہے۔ اتوار کو پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم نے مختلف قومی اور بین الاقوامی امور پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ اپنی حکومت کی ’’ریفارم ایکسپریس‘‘ سے مطمئن ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص خود کو مکمل طور پر مطمئن سمجھ لے تو ترقی کا سفر رک جاتا ہے، جبکہ وہ ہمیشہ آگے بڑھنے اور مزید اصلاحات کی تلاش میں رہتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ وہ مکمل اطمینان کا دعویٰ نہیں کرتے، تاہم اب تک جو اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات کیے گئے ہیں، انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اصلاحات ان کی حکومت کی بنیادی ترجیح رہی ہیں اور انہیں پوری دیانت داری اور عزم کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے محض جزوی تبدیلیوں کے بجائے نظام میں بنیادی اور ساختیاتی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ مودی نے کہا کہ ملک اب اصلاحات کے ذریعے ایک نئی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ پالیسی سازی میں شفافیت، سیاسی استحکام اور واضح حکمت عملی نے معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات کا مقصد صرف اقتصادی اعداد و شمار بہتر بنانا نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانا ہے۔
وزیر اعظم نے ہندوستان کی بڑھتی ہوئی عالمی شراکت داری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک نے عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو نمایاں طور پر مستحکم کیا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ تجارتی معاہدے اچانک طے نہیں ہوئے بلکہ یہ مضبوط گھریلو معیشت، مسابقتی صنعتوں اور پراعتماد پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اصلاحات، پالیسی استحکام اور سرمایہ کار دوست ماحول پر خصوصی توجہ دی، جس کے باعث دنیا کا اعتماد ہندوستان پر بڑھا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان اب تک 38 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کر چکا ہے، جو اپنے آپ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ معاہدے مختلف براعظموں اور متنوع اقتصادی طاقت رکھنے والے ممالک کے ساتھ کیے گئے ہیں، جس سے بھارتی کمپنیوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق ان معاہدوں سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ مودی نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ ہندوستان کو ایک مضبوط، بااعتماد اور عالمی سطح پر قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر مزید مستحکم کیا جائے۔ ان کے بقول مثبت بے چینی ہی انہیں مسلسل محنت اور بہتری کی راہ پر گامزن رکھتی ہے، اور یہی جذبہ ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…