قومی

PM Modi’s Australia Visit: وزیر اعظم مودی کے آسٹریلیا دورہ میں دفاعی اور توانائی تعاون کو نئی جہت ملی: وزارتِ خارجہ

نئی دہلی: بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے آسٹریلیا دورے کے دوران دونوں ممالک نے دفاع، سمندری سلامتی اور توانائی کے شعبوں میں کئی اہم فیصلے کیے۔ وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے پیش نظر دونوں ملکوں نے اپنی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

دفاع اور سلامتی کے شعبے میں اہم پیش رفت

وزیر اعظم مودی کے سرکاری آسٹریلیا دورے کے حوالے سے وزارتِ خارجہ کی خصوصی بریفنگ میں خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے کہا کہ آج کی ملاقات کے اہم نتائج میں دفاع اور سلامتی کے تعاون سے متعلق مشترکہ اعلامیے کو منظور کرنا اور بھارت۔آسٹریلیا سمندری سلامتی تعاون کے روڈ میپ کی منظوری شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بدلتے ہوئے تزویراتی حالات کے مطابق دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی یہ دفاع اور سلامتی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

توانائی کے شعبے میں مشترکہ عزم

دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ صنعتوں کے درمیان شراکت داری اور تزویراتی سرمایہ کاری، قابلِ اعتماد، کم لاگت اور پائیدار توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اسی مقصد کے تحت دونوں رہنماؤں نے توانائی کے تحفظ سے متعلق ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جو عوامی طور پر بھی دستیاب ہے۔ اس بیان میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی کی مسلسل اور محفوظ فراہمی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات، کوئلہ اور قدرتی گیس پر تعاون

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت آسٹریلیا کو صاف شدہ پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے، جبکہ آسٹریلیا طویل عرصے سے بھارت کو کوئلہ اور قدرتی گیس جیسی اہم توانائی مصنوعات فراہم کرتا آ رہا ہے۔

یورینیم کی فراہمی کی راہ ہموار

اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے ایک انتظامی طریقۂ کار پر بھی اتفاق کیا، جس کے ذریعے آسٹریلیا سے بھارت کو یورینیم کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ یہ انتظام بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان سن 2014 میں ہونے والے پُرامن جوہری تعاون کے معاہدے پر مزید پیش رفت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

صاف توانائی اور ماحولیاتی اہداف کی جانب اہم قدم

وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ پیش رفت بھارت کے صاف توانائی کی جانب منتقلی کے ہدف کو حاصل کرنے میں ایک اہم کامیابی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھارت اور آسٹریلیا دونوں کے لیے صاف توانائی پر مبنی معیشت کی تعمیر اور خالص صفر اخراج کے مشترکہ ہدف کی سمت بھی ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

15 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

16 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

17 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

18 hours ago