نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کے 18 جنوری کو اپنے مجوزہ دو روزہ دورۂ مغربی بنگال کے دوران ہگلی ضلع کے سنگور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرنے کا امکان ہے۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم مالدہ بھی جائیں گے۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی ٹاٹا فیلڈ، سنگور میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کریں گے، جس میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ ریلی کی تیاریوں کی ذمہ داری مقامی پارٹی قائدین سنبھال رہے ہیں۔ بی جے پی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ وزیراعظم کا یہ دورہ صنعتی ترقی کے حوالے سے ایک مضبوط سیاسی پیغام دے گا۔
سنگور کا انتخاب: علامتی اہمیت
سنگور کا انتخاب خاصی علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ 2006 میں وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے یہاں ٹاٹا موٹرز کے نینو پروجیکٹ کے لیے زمین کے حصول کے خلاف احتجاج کی قیادت کی تھی، جس کے نتیجے میں کمپنی نے اپنی فیکٹری گجرات منتقل کر دی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج سنگور کے لوگ ممتا بنرجی کی حمایت پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔
کسانوں کی ناراضگی اور صنعت کی واپسی کی امید
مقامی کسانوں کا الزام ہے کہ ٹاٹا نینو منصوبے کے بند ہونے کے بعد ترنمول کانگریس حکومت زمین کو دوبارہ قابل استعمال بنانے میں ناکام رہی۔ سنگور کے لوگ اب ایک بار پھر علاقے میں صنعت کی واپسی کی امید لگا بیٹھے ہیں۔
جے پی نڈا اور دیگر بی جے پی رہنماؤں کا دورہ
ادھر بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا 8 اور 9 جنوری کو مغربی بنگال کا دورہ کریں گے، جہاں وہ 2026 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ اس دوران وہ ضلع سطح کے رہنماؤں، پارٹی کارکنوں اور بی جے پی ڈاکٹرس سیل کے اراکین سے ملاقات کر کے زمینی مسائل پر فیڈ بیک حاصل کریں گے۔ بی جے پی کے کارگزار صدر نتن نبین بھی جلد ہی ریاست کا دورہ کریں گے۔
2006 کے احتجاج سے اقتدار تک کا سفر
2006 میں سنگور کی زمین تحریک نے ممتا بنرجی کو سیاسی طور پر مضبوط کیا اور پانچ سال بعد، 2011 میں، انہوں نے 34 سالہ بائیں بازو کی حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا۔ تاہم 2021 کے بعد سنگور میں حالات بدل چکے ہیں اور مقامی عوام ترنمول کانگریس سے مایوس نظر آتے ہیں۔
پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت کی تنقید
اس سے قبل پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے راجیہ سبھا میں ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس حکومت پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کی ترقی کو خود ریاستی حکومت جان بوجھ کر روک رہی ہے، حالانکہ مرکز کی جانب سے ریکارڈ سطح کی مدد فراہم کی گئی ہے۔
مغربی بنگال کو مرکزی امداد اور ترقیاتی اعداد و شمار
وزیر خزانہ کے مطابق، 2014 کے بعد سے مغربی بنگال کو 5.94 لاکھ کروڑ روپے ٹیکس ڈیولوشن کے تحت دیے گئے، جو 2004-14 کے مقابلے میں 4.4 گنا زیادہ ہیں۔ ایس اے ایس سی آئی اسکیم کے تحت ریاست کو 24 ہزار کروڑ روپے کے 50 سالہ بلا سود قرض فراہم کیے گئے۔ ریاست میں ایمس کلیانی کا افتتاح کیا گیا، جبکہ مرکزی اسپانسرڈ اسکیم کے تحت 11 میڈیکل کالجوں کی منظوری دی گئی۔ 2025-26 کے لیے ریلوے بجٹ میں مغربی بنگال کو 13,955 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جو 2009-14 کے اوسط بجٹ سے تین گنا زیادہ ہے۔
بنیادی ڈھانچے میں پیش رفت
مغربی بنگال میں 101 امرت اسٹیشنز کو 3,847.5 کروڑ روپے کی لاگت سے ترقی دی جا رہی ہے۔ ریاست میں 1,650 کلومیٹر ریلوے لائن کو برقی نظام سے جوڑا گیا، جس کے بعد کل برقی کاری 98 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اپریل 2014 کے بعد سے 2,300 کلومیٹر قومی شاہراہیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ اگست 2024 میں مرکزی حکومت نے سلی گڑی کے باگڈوگرا ایئرپورٹ کی ترقی کے منصوبے کو منظوری دی، جس پر 1,549 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…