قومی

Prime Minister Narendra Modi: تکبر نہیں، بلکہ عاجزی… پی ایم مودی نے نیتی شتکم کی ایک شلوک سے دنیا کو پرہیزگاری کا دیا پیغام

نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز ملک اور دنیا کے نام ایک اہم اور متاثر کن پیغام جاری کرتے ہوئے عظیم سنسکرت شاعر بھرتری ہری کی معروف تصنیف “نیتی شتکم” کا ایک شلوک پیش کیا۔ وزیراعظم نے اس شلوک کے ذریعے عاجزی، خدمت خلق اور دوسروں کی بھلائی کے جذبے کو حقیقی کامیابی کا معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کی عظمت اس کے عہدے یا دولت میں نہیں بلکہ اس کی انکساری اور سماجی خدمت کے جذبے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر ایک خوبصورت پیغام شیئر کیا۔ انہوں نے بھرتری ہری کا مشہور شلوک نقل کیا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح پھلوں سے لدے درخت جھک جاتے ہیں اور پانی سے بھرے بادل نیچے آ جاتے ہیں، اسی طرح نیک اور باکردار لوگ دولت، طاقت اور کامیابی حاصل کرنے کے باوجود ہمیشہ عاجز اور منکسر المزاج رہتے ہیں۔ یہی دوسروں کی بھلائی کرنے والوں کی فطرت ہوتی ہے۔

وزیراعظم مودی  نے اس شلوک کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی خوشحالی اور کامیابی کا حسن تکبر میں نہیں بلکہ عاجزی اور ایثار کے جذبے میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ زندگی میں حاصل ہونے والی ہر کامیابی اسی وقت بامعنی سمجھی جا سکتی ہے جب اس کا مقصد عوام کی خدمت، معاشرے کی بھلائی اور ضرورت مندوں کی مدد ہو۔اپنے پیغام میں وزیراعظم  مودی نے فطرت کی دو خوبصورت مثالوں کے ذریعے عاجزی کی اہمیت کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب درخت پھلوں سے بھر جاتے ہیں تو ان کی شاخیں خود بخود جھک جاتی ہیں، اسی طرح بارش سے بھرے بادل بھی زمین کے قریب آ جاتے ہیں۔ بالکل اسی انداز میں عظیم انسان بھی اقتدار، دولت اور شہرت حاصل کرنے کے باوجود غرور کا شکار نہیں ہوتے بلکہ اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو عوام کی فلاح اور معاشرے کی ترقی کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے خاص طور پر ملک کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی کا اصل معیار دوسروں کے لیے فائدہ مند بننا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو تلقین کی کہ وہ اپنی زندگی میں خدمت، اخلاق، انکساری اور سماجی ذمہ داری کو ہمیشہ مقدم رکھیں، کیونکہ یہی اوصاف ایک بہتر معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔اس سنسکرت شلوک کی تشریح ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں بھی پیش کی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کے پیغام کو سمجھ سکیں۔ سیاسی، سماجی اور تعلیمی حلقوں میں وزیراعظم کے اس پیغام کو نوجوانوں، عوامی نمائندوں اور معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے ایک مثبت اور رہنمائی فراہم کرنے والا پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیغام اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے منصب یا طاقت سے نہیں بلکہ اس کے اخلاق، عاجزی اور دوسروں کی خدمت کے جذبے سے ہوتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Third BIMSTEC Conference: بِمسٹیک کی روایتی طب، جینیاتی وسائل اور دانشورانہ املاک کے حقوق پر تیسری کانفرنس گوا میں شروع

بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…

6 hours ago

Bharat Express Urdu National Conclave: بزمِ صحافت: نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ، بھارت ایکسپریس اردو  کا نیشنل کانکلیو

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…

8 hours ago

Punjab Turban Row: پنجاب میں ’پگڑی‘ پر گھمسان تو یوپی میں کانگریس کی نئی بریگیڈ تیار! جانیے 5 ریاستوں کے انتخابات سے پہلے کیا ہے ہلچل؟

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…

9 hours ago

Special Parliament Session: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی تیاری؟ حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر ہو سکتا ہے بڑا فیصلہ

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…

10 hours ago