نئی دہلی : بہار کے ضلع بھوجپور کے شاہ پور بلاک کے تحت واقع بلوٹی گاؤں میں 17 جون کو پیش آئے مبینہ پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے بھرت تیواری کا معاملہ اب ریاستی سرحدوں سے نکل کر قومی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ پولیس کی کارروائی اور جانچ میں تاخیر پر ناراض مقتول کے اہل خانہ نے 17 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر بڑے پیمانے پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ واقعے کو کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود نامزد پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے انہیں انصاف کی امید کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے۔بھرت تیواری کی والدہ آشا دیوی نے پولیس انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جگدیش پور کے ایس ڈی پی او راجیش شرما، شاہ پور کے اس وقت کے تھانہ انچارج راجیش مالاکار اور دیگر متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا نامزد مقدمہ درج کرایا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرنے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کے بجائے پورا انتظامی نظام معاملے کو دبانے اور اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آشا دیوی نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان کا خاندان اپنے بیٹے کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن قانونی اور جمہوری جدوجہد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بہار میں انصاف نہیں ملا تو وہ دہلی جا کر اپنی آواز بلند کریں گے اور کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ان کے مطابق یہ صرف ان کے بیٹے کا معاملہ نہیں بلکہ انصاف اور قانون کی بالادستی کا سوال ہے۔مقتول کے والد، چچا اور بھائی نے بھی آشا دیوی کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ جدوجہد قومی سطح پر لے جائی جائے گی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ اگر ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف جلد سخت کارروائی نہ ہوئی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔اہل خانہ نے ملک بھر کی سماجی تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 17 جولائی کو بڑی تعداد میں جنتر منتر پہنچ کر ان کی حمایت کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ تک اپنی آواز پہنچانا ہے تاکہ مرکزی سطح پر مداخلت کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب اس پورے معاملے اور اہل خانہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر مقامی پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اب تک کوئی نیا عوامی بیان یا وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ انتظامیہ کی خاموشی نے متاثرہ خاندان کے غم و غصے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔اب تمام نظریں 17 جولائی کو جنتر منتر میں ہونے والے مجوزہ احتجاج پر مرکوز ہیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا اس سے قبل بہار حکومت یا مقامی انتظامیہ معاملے کی شفاف جانچ اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھاتی ہے یا نہیں۔ دوسری جانب یہ بھی واضح رہے کہ اہل خانہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اور معاملہ تحقیقات کے مرحلے میں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…