وزیر اعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: بھارت کے ممتاز آئینی ماہر، سابق لوک سبھا سکریٹری جنرل اور پارلیمانی امور کے معروف دانشور ڈاکٹر سبھاش سی کشیپ کا جمعرات کے روز دہلی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر طویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔ وہ 97 برس کے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر سبھاش سی کشیپ کے انتقال کی خبر سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
وزیر اعظم مودی کا اظہارِ افسوس
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کشیپ بھارت کے ممتاز آئینی ماہرین میں شمار ہوتے تھے، جن کی پارلیمانی اور آئینی مباحث میں گراں قدر خدمات نے معاشرے کو بے حد فائدہ پہنچایا۔ وزیر اعظم نے ان کی علمی تصانیف اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی مسلسل وابستگی کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے آنجہانی کے اہلِ خانہ اور دوستوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ’اوم شانتی‘ کہا۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی تعزیت
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھی ڈاکٹر کشیپ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق لوک سبھا سکریٹری جنرل اور نامور آئینی ماہر ڈاکٹر سبھاش سی کشیپ کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ڈاکٹر کشیپ نے اپنی غیر معمولی علمی بصیرت کے ذریعے بھارتی آئین کے مطالعے اور پارلیمانی نظام کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے آنجہانی کے اہلِ خانہ اور مداحوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔
نائب صدر جمہوریہ کا خراجِ عقیدت
وہیں، نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے بھی ایک تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر سبھاش سی کشیپ ایک ممتاز آئینی ماہر اور اسکالر تھے۔ اپنی کتابوں، تحقیق اور عوامی خدمات کے ذریعے، انہوں نے ہندوستانی آئین اور پارلیمانی جمہوریت کی سمجھ کو مضبوط بنانے میں انمول شراکت کی۔ ان کی واضح سوچ، فکری صلاحیت اور جمہوری اداروں کے لیے لگن نے نسلوں کو متاثر کیا۔ پارلیمانی خدمات کا طویل سفر
ڈاکٹر سبھاش سی کشیپ 1983 سے 1990 تک لوک سبھا کے سیکریٹری جنرل رہے۔ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کے دور کی پہلی لوک سبھا سے لے کر نویں لوک سبھا تک تقریباً 37 برس تک پارلیمنٹ کی خدمت کی۔ وہ 100 سے زائد کتابوں کے مصنف تھے اور بھارتی آئین و پارلیمانی طریقۂ کار کے معتبر ترین ماہرین میں شمار کیے جاتے تھے۔
تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی
سال 1929 میں اتر پردیش کے ضلع بجنور کے قصبہ چاندپور میں ایک مجاہدِ آزادی خاندان میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر کشیپ نے الٰہ آباد، نئی دہلی، واشنگٹن، لندن اور جنیوا میں اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز صحافت اور الٰہ آباد یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے کیا۔ اس کے بعد الٰہ آباد ہائی کورٹ میں وکالت کی تربیت حاصل کرنے کے بعد پارلیمانی خدمات سے وابستہ ہو گئے اور ملک کے نمایاں آئینی ماہرین میں شمار ہونے لگے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…