قومی

PM Modi Article 370: آرٹیکل 370 اب تاریخ کا حصہ…! ساتویں برسی پر وزیر اعظم مودی کا بڑا پیغام، جانیے کتنی آئی تبدیلی

5 اگست کا دن بھارتی تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر درج ہے۔ جموں و کشمیر اور لداخ سے آئین ہند کے آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کی ساتویں برسی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم کے نام ایک اہم پیغام جاری کیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم مودی نے 5 اگست 2019 کے فیصلے کو جموں و کشمیر اور لداخ کی ترقی کے سفر میں ایک نئے اور فیصلہ کن باب کا آغاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات برسوں کے دوران دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، صنعت و کاروبار اور کھیل سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں اور غیر معمولی ترقی دیکھنے کو ملی ہے۔

آرٹیکل 370 کی منسوخی کے 7 برس  بعد

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35A اب ماضی اور تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق بھارتی آئین کے مکمل نفاذ کے بعد ان تمام طبقات کو مساوی حقوق اور عزت ملی ہے، جنہیں کئی دہائیوں تک ان حقوق سے محروم رکھا گیا تھا۔انہوں نے خاص طور پر کہا کہ اس فیصلے کے بعد جموں و کشمیر کی خواتین، مقامی نوجوانوں اور سماجی طور پر پسماندہ اور محروم طبقات کو حقیقی آئینی اختیارات حاصل ہوئے ہیں، جس سے ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آئی ہے اور وہ قومی دھارے سے مزید مضبوطی کے ساتھ جڑ سکے ہیں۔

وزیر اعظم نے بتائی 5 اگست کی اہمیت

وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال 5 اگست کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ پورا ملک ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی 125ویں یومِ پیدائش منا رہا ہے۔ ان کے مطابق قومی یکجہتی اور سالمیت کے لیے ڈاکٹر مکھرجی کی خدمات آج بھی ہر ہندوستانی کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کا فیصلہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے “ایک دیش، ایک ودھان” کے تصور کی تاریخی تکمیل کی علامت ہے۔وزیر اعظم مودی نے جموں و کشمیر اور لداخ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ہر شہری کو آگے بڑھنے، بڑے خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں بدلنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے، تاکہ وہ ’وکست بھارت‘ کی تعمیر میں فعال کردار ادا کر سکیں۔قابلِ ذکر ہے کہ 5 اگست 2019 کو پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی قرارداد کے بعد سابق ریاست جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کی گئی تھی اور اسے دو الگ الگ مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

3 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

4 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

5 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

6 hours ago