وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طویل ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر ٹرمپ سے تقریباً 40 منٹ تک فون پر بات کی۔ ایران جنگ بندی کے بعد دونوں لیڈروں کے درمیان یہ پہلی بات چیت تھی۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ٹرمپ نے آبنا ئے ہرمزکو مکمل طور پر بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے بتایا کہ مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ نے انہیں فون کیا تھا۔
نریندرمودی نے اپنے پیغام میں کہا، “میرے دوست صدر ٹرمپ کا فون آیا۔ ہم نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون میں ہونے والی اہم پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ہم تمام شعبوں میں اپنی جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی بات چیت کی اور آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔”
قابل ذکر ہے کہ ایران جنگ بندی کے بعد پاکستان کی قیادت میں ہونے والی امن مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں پاکستان، امریکہ اور ایران کے نمائندوں نے تقریباً 21 گھنٹے تک ایران جنگ، اس کے اثرات اور امن بحالی کی کوششوں پر بات چیت کی، تاہم اس مذاکرات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
اس پیش رفت کو مغربی ایشیا کی بدلتی صورتحال میں اہم سفارتی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز کی سکیورٹی عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…