بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے سے متعلق ملک کی سیاست میں زبردست جنگ چھڑ گئی ہے۔ ایک طرف جہاں راہل گاندھی اس معاہدے کو کسانوں کے لیے ’موت کا فرمان‘ قرار دے رہے ہیں، وہیں مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل نے محاذ سنبھالتے ہوئے راہل گاندھی کے دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ پیوش گوئل نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ راہل گاندھی محض ’ڈرامہ‘ کر رہے ہیں اور کسانوں کے کندھے پر بندوق رکھ کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی بھی صورت میں کسانوں کے مفادات پر آنچ نہیں آنے دے گی اور تجارتی معاہدے میں ملکی زرعی شعبے کے تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
راہل گاندھی کا بیان کیا تھا؟
دراصل تنازع کی شروعات راہل گاندھی کے اُس بیان سے ہوئی جس میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہِ راست حملہ کیا تھا۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ حکومت امریکہ کے ساتھ جو تجارتی معاہدہ کر رہی ہے، وہ بھارتی کسانوں کی روزی روٹی پر سیدھا وار ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ غیر ملکی فصلیں بھاری سبسڈی کے ساتھ بھارتی بازاروں میں آئیں گی، جس سے ہمارے کسان برباد ہو جائیں گے۔
راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں کسان تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اَنّہ داتا خوفزدہ ہے اور مہنگائی و لاگت کے بوجھ تلے پہلے ہی دبا ہوا کسان اب غیر ملکی مقابلے کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ دیہی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
پیوش گوئل کا پلٹ وار
راہل گاندھی کے ان الزامات پر پیوش گوئل نے فوری ردعمل دیتے ہوئے سخت جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے ایک بار پھر منصوبہ بند طریقے سے مکمل طور پر من گھڑت اور جھوٹی کہانی گڑھی ہے۔ گوئل نے دعویٰ کیا کہ حکومت کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور کسی بھی تجارتی سمجھوتے میں قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی اور حقائق جلد سامنے آ جائیں گے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ راہل گاندھی جن لوگوں سے کسان بتا کر ملاقات کر رہے ہیں، وہ دراصل کانگریس کے کارکنان ہیں جو کسان رہنما ہونے کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ گوئل کے مطابق یہ پوری گفتگو پہلے سے لکھی گئی ایک اسکرپٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد صرف عوام کو گمراہ کرنا ہے۔
راہل گاندھی کو قرار دیا ’ناٹک باز‘
وزیر نے ملک کے کسانوں کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے اس معاہدے میں کسانوں، ماہی گیروں، ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپس کے مفادات کو مکمل طور پر محفوظ رکھا ہے۔ انہوں نے پوری ذمہ داری کے ساتھ دعویٰ کیا کہ حساس فصلوں اور ڈیری جیسے شعبوں کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔
گوئل نے راہل گاندھی کو ’ناٹک باز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل من گھڑت کہانیوں کے ذریعے دیہی آبادی میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ بھارتی مصنوعات کے لیے امریکہ جیسے بڑے بازاروں کے دروازے کھولے گا اور برآمدات کو نئی رفتار دے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…