پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک عدالت میں ہونے والے خودکش دھماکے نے خطے میں ایک نئی سیاسی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ دھماکے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے۔ واقعے کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس حملے کا الزام بھارت پر عائد کیا، جس پر نئی دہلی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں کہا کہ “بھارت ان بے بنیاد الزامات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے جو ایک ذہنی توازن کھو بیٹھے پاکستانی قیادت کی طرف سے لگائے جا رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی داخلی سیاسی و آئینی افراتفری سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بھارت پر جھوٹے الزامات تراشنے کی پرانی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ترجمان کے مطابق، “پاکستان کا فوجی ڈھانچہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے ملک کے اندر افراتفری پھیلا رہا ہے۔ عالمی برادری اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے اور وہ پاکستان کی مایوس کن سازشوں میں نہیں آئے گی”۔ دوسری جانب، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ “یہ حملے بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گردی کا تسلسل ہیں جن کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ یہ حملے افغانستان کی سرزمین سے بھارت کی سرپرستی میں کیے جا رہے ہیں”۔
شہباز شریف کے بیان کے بعد پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا موقف سامنے آیا، مگر ان کا بیان وزیراعظم کے مؤقف سے مختلف تھا۔ آصف نے کہا کہ “ہم جنگ کی کیفیت میں ہیں۔ یہ حملہ بلوچستان یا افغان سرحد پر نہیں بلکہ اسلام آباد کے دل میں ہوا ہے۔ طالبان انتظامیہ اگر چاہے تو پاکستان میں دہشت گردی روک سکتی ہے، لیکن اسلام آباد تک حملہ لانا کابل کی طرف سے ایک خطرناک پیغام ہے”۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے بیانات میں تضاد نے ایک بار پھر پاکستان کی داخلی پالیسیوں کی الجھن کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک طرف وزیراعظم بھارت کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، تو دوسری جانب ان کے وزیرِ دفاع حملے کو طالبان کی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کے بے سروپا الزامات اس کے خود کے سیاسی انتشار کا نتیجہ ہیں۔ دراصل، یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں شدت آئی ہے۔ تین مرحلوں کی بات چیت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم نہیں ہو سکا، جبکہ قطر اور ترکی کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے دوران افغان حکام نے الزام لگایا کہ پاکستان کی فائرنگ سے چھ شہری جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے۔ اس حالیہ تنازعے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی ناکامیوں کا ملبہ بھارت پر ڈال کر بین الاقوامی سطح پر ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی۔
بھارت ایکسپریس اردو
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو صحافت کی شاندار روایت، بدلتے دور میں اس کے…
13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…
’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…