میلبورن: وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان سمندری سلامتی کے تعاون کے لیے تیار کیا گیا نیا روڈ میپ ہند-بحرالکاہل خطے میں دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کو نئی طاقت فراہم کرے گا۔ میلبورن میں آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز کے ساتھ تیسرے بھارت-آسٹریلیا سالانہ سربراہی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم مودی نے اپنے اور بھارتی وفد کے پرتپاک استقبال پر آسٹریلوی وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتھونی البانیز کی ذاتی دلچسپی اور عزم کے باعث بھارت-آسٹریلیا تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچے ہیں اور ان کا دائرہ مزید وسیع ہوا ہے۔ وزیرِ اعظم مودی نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک دفاعی شعبے کے اسٹارٹ اپس اور صنعتوں کو باہم جوڑنے کے لیے بھارت-آسٹریلیا ڈیفنس انوویشن کوریڈور کے تحت مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری توانائی کے شعبے میں نئے معاہدے سے آسٹریلیا سے بھارت کو یورینیم کی فراہمی کی راہ ہموار ہوگی، جس سے صاف توانائی کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔
جامع اقتصادی معاہدہ اور سمندری شعبے میں نئی پیش رفت
وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہند-بحرالکاہل صرف دو سمندروں کا سنگم نہیں بلکہ بھارت اور آسٹریلیا جیسے ہم خیال جمہوری ممالک کی مشترکہ امنگوں کی علامت بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک نے سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں، جبکہ جہاز سازی، جہازوں کی مرمت، دیکھ بھال اور سمندری سلامتی کے شعبوں میں بھی اشتراک کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور آسٹریلیا دو مضبوط جمہوریتیں، کثیر الثقافتی معاشرے اور اہم سمندری طاقتیں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، مشترکہ اقدار اور یکساں سوچ نے جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی جہت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے جامع اقتصادی تعاون کے معاہدے (CECA) پر کام آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جو متوازن، پُرعزم اور دونوں فریقوں کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ثابت ہوگا۔
کرکٹ کی مثال دے کر شراکت داری کی وضاحت
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کرکٹ کی مثال دیتے ہوئے بھارت-آسٹریلیا تعلقات کو منفرد انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا ’’ہمارا ایجنڈا ون ڈے میچ کی طرح واضح اور مرکوز ہوتا ہے، ہمارے فیصلے ٹی-20 کی طرح تیز رفتار ہوتے ہیں، جبکہ ہماری شراکت داری ٹیسٹ میچ کی طرح گہری، مضبوط اور طویل عرصے تک قائم رہنے والی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ میلبورن کو دنیا کا کھیلوں کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں کھیلوں کا ذکر نہ کرنا ایسا ہوگا جیسے کرکٹ میچ میں ٹاس جیتنے کے بعد کھیل ہی شروع نہ کیا جائے۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات میں کرکٹ ایک سفارتی زبان کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے برسوں میں دونوں ممالک اولمپک اور دولتِ مشترکہ کھیلوں جیسے بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی کریں گے، جس سے نہ صرف کھیلوں کے میدان میں تعاون بڑھے گا بلکہ اسپورٹس انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…