نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ’وکست بھارت‘ گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (دیہی) بل، 2025‘، وکست بھارت شکشا ادھشٹھان بل اور ایٹامک انرجی بل کو پارلیمنٹ کی متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے حوالے کیا جائے۔
بلوں پر گہرے مطالعے اور وسیع مشاورت کی ضرورت
جے رام رمیش نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ یہ تینوں بل دور رس اثرات کے حامل ہیں اور ان پر گہرے مطالعے اور وسیع عوامی و پارلیمانی مشاورت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا ’’پوری اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ ان تینوں اہم بلوں کو اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے سپرد کیا جائے۔ ہمیں امید ہے کہ پارلیمانی روایات کے مطابق حکومت اس مطالبے کو قبول کرے گی۔‘‘
مرکز کی جانب سے بل لوک سبھا میں پیش
مرکزی حکومت نے پیر کو لوک سبھا میں وکست بھارت شکشا ادھشٹھان بل اور سسٹین ایبل ہارنیسنگ اینڈ ایڈوانسمنٹ آف نیوکلیئر انرجی فار ٹرانسفارمنگ انڈیا بل پیش کیے، جبکہ وکست بھارت گارنٹی برائے روزگار و آجیویکا مشن (دیہی) یعنی وی بی-جی رام جی بل 2025 جلد پیش کیا جانا ہے۔ یہ بل تقریباً دو دہائی پرانے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (MGNREGA) کی جگہ لے گا۔
منریگا کے نام پر تنازع
اپوزیشن جماعتوں نے اس مجوزہ بل پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے مہاتما گاندھی کا نام ملک کی سب سے بڑی دیہی روزگار اسکیم سے ہٹایا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں وکست بھارت شکشا ادھشٹھان بل کو جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ملکارجن کھڑگے کا بی جے پی پر سخت حملہ
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ منریگا کا نام بدلنا دراصل ’’بی جے پی-آر ایس ایس کی منریگا کو ختم کرنے کی سازش‘‘ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ غریبوں کے حقوق کو کمزور کرنے کی یہ ایک منظم کوشش ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ کانگریس اس فیصلے کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور سڑکوں پر بھرپور احتجاج کرے گی۔
نئے بل میں روزگار کے دن بڑھانے کی تجویز
مجوزہ وی بی-جی رام جی بل کے تحت ہر دیہی خاندان کو 100 دن کے بجائے 125 دن کی اجرتی روزگار کی ضمانت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اسکیم کے تحت بنائے گئے اثاثوں کو وکست بھارت نیشنل رورل انفراسٹرکچر اسٹیک سے جوڑا جائے گا، تاکہ منصوبہ بندی، نگرانی اور قومی سطح پر انضمام ممکن ہو سکے۔
تعلیمی اصلاحات اور نیوکلیئر توانائی پر بل
وکست بھارت شکشا ادھشٹھان بل کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں کو خود مختار بنانے کے لیے ایک نیا ادارہ قائم کیا جائے گا، جو ریگولیٹری، ایکریڈیٹیشن اور معیار سازی کے الگ الگ کونسلز پر مشتمل ہوگا۔ یہ بل قومی تعلیمی پالیسی 2020 سے ہم آہنگ بتایا گیا ہے۔ وہیں نیوکلیئر انرجی سے متعلق بل کا مقصد توانائی، صحت، زراعت، صنعت، تحقیق اور ماحولیات میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے محفوظ اور مؤثر استعمال کو فروغ دینا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سندھ کے پانی کی تقسیم پر پاکستان کی فوج اور پنجاب کو ذمہ دار قرار…
اسٹار لنک نیٹ ورک کو تیزی سے پھیلانے کے لیے اسپیس ایکس کی مسلسل سیٹلائٹ…
باجھانگ ضلع میں 42 سالہ خاتون بملہ دیوی کا بیمار کتے کو زندہ پل سے…
سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…