نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کی گئی متنازع اور توہین آمیز نعرے بازی کا معاملہ سیاسی حلقوں میں تیزی سے گرماتا جا رہا ہے۔ اس واقعے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں نے سخت اعتراض درج کرایا ہے اور ذمہ دار افراد سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ اب منڈی سے بی جے پی کی رکنِ پارلیمان اور اداکارہ کنگنا رناوت بھی اس معاملے پر کھل کر سامنے آ گئی ہیں اور انہوں نے اس طرح کی سیاست کو نہایت افسوسناک قرار دیا ہے۔ کنگنا رناوت نے وزیر اعظم کے خلاف لگائے گئے نعرے کو جمہوری اقدار کے منافی بتاتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر کسی کے لیے موت کی خواہش یا بددعا دینا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف جماعتوں کی الگ الگ نظریات ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں۔ سیاست میں زبان اور رویے کی ایک حد ہونی چاہیے، جسے پار کرنا پورے معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران کنگنا رناوت نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے خلاف جس زبان کا استعمال کیا گیا، اس سے نہ صرف انہیں ذاتی طور پر دکھ پہنچا بلکہ پورا ملک اس پر رنجیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کو ملک کے تقریباً 140 کروڑ عوام نے منتخب کیا ہے اور وہ ایک مقبول ترین لیڈر ہیں، جن کی مقبولیت صرف بھارت تک محدود نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی ہے۔ ایسے میں ان کے خلاف توہین آمیز نعرے لگانا جمہوری نظام اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہے۔
کنگنا نے اس واقعے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات نوجوانوں کو غلط پیغام دیتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر آج صرف نعرے لگائے جا رہے ہیں، تو کل کو کوئی شخص عملی طور پر تشدد کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اس طرح کا زہریلا ماحول ملک کے لیے نقصان دہ ہے اور اس پر فوری طور پر روک لگنی چاہیے۔ کنگنا رناوت نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں مناسب کارروائی ہونی چاہیے اور ذمہ دار شخص کو عوامی طور پر معافی مانگنی چاہیے۔ یہ تنازع 14 نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی ایک سیاسی ریلی کے بعد سامنے آیا۔ اس ریلی کا اہتمام کانگریس کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا تھا۔ ریلی کے دوران جے پور خواتین کانگریس کی ضلع صدر منجو لتا مینا نے وزیر اعظم مودی کے خلاف متنازع نعرے لگائے، جن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سیاسی ردِعمل کا سلسلہ شروع ہو گیا اور بی جے پی لیڈروں نے اس کی سخت مذمت کی۔
تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب منجو لتا مینا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں اپنے بیان پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ ان کے اس مؤقف نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔ بی جے پی نے کانگریس سے وضاحت اور معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف سیاسی شائستگی کے خلاف ہیں بلکہ سماج میں نفرت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ سیاست میں زبان کے استعمال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کنگنا رناوت کا کہنا ہے کہ اختلاف جمہوریت کی روح ہے، مگر نفرت اور اشتعال انگیزی اس کی بنیاد کو کمزور کرتی ہے۔ ان کے مطابق وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور عوام کے سامنے ایک مثبت مثال قائم کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو
امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی 25 سالہ عوامی خدمت کا ذکر اس…
یونیورسٹی آف ممبئی کے شعبۂ قانون اور چیف جسٹس ایم سی چھاگلا میموریل ٹرسٹ کے…
پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…
مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…
ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے…
بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…