نئی دہلی : عالمی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے درمیان ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی آئندہ ہفتے ہونے والی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی میٹنگ میں ریپو ریٹ یا پالیسی موقف میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث مرکزی بینک اس بار محتاط رویہ اختیار کرے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار آر بی آئی کی توجہ زیادہ تر اقتصادی ترقی (جی ڈی پی) اور مہنگائی کے اندازوں پر مرکوز رہے گی، کیونکہ موجودہ عالمی حالات میں یہ دونوں عوامل انتہائی اہم ہو گئے ہیں۔بینک آف بڑودہ کے چیف اکانومسٹ مدن سبناویس نے کہا کہ لیکویڈیٹی یا کرنسی مینجمنٹ کے حوالے سے کسی نئے اقدام کی توقع نہیں کی جا رہی، کیونکہ آر بی آئی ضرورت پڑنے پر پہلے بھی ایسے اقدامات کرتا رہا ہے۔
یہ تین روزہ پالیسی اجلاس 6 اپریل سے 8 اپریل تک منعقد ہوگا۔ یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث توانائی کا بحران بڑھ گیا ہے اور مارچ کے دوران برینٹ کروڈ کی اوسط قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔بینک کے مطابق اگر مہنگائی 6 فیصد کی بالائی حد سے تجاوز کرتی ہے تو سال کے اختتام تک شرح سود میں اضافے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے اثرات آئندہ تین سے چار ماہ میں اقتصادی ترقی اور مہنگائی پر واضح طور پر نظر آئیں گے، جس کے بعد آر بی آئی شرح سود کے بارے میں فیصلہ لے گا۔
ایچ ایس بی سی گلوبل انویسٹمنٹ ریسرچ کے مطابق اس بار ایم پی سی کی میٹنگ کا محور تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے پیدا ہونے والی تشویش کو کم کرنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق آر بی آئی مختلف ممکنہ حالات اور اپنی حکمت عملی سے متعلق واضح اشارے دے سکتا ہے۔ایچ ایس بی سی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود فوری طور پر شرح سود میں اضافے کا امکان کم ہے، کیونکہ آر بی آئی ایک سال آگے کی مہنگائی کو زیادہ اہمیت دیتا ہے، جو فی الحال کم رہنے کی توقع ہے۔ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ شرح سود میں کمی کا دور اب ختم ہو چکا ہے اور آر بی آئی طویل مدت تک شرح سود کو مستحکم رکھ سکتا ہے۔حال ہی میں 27 مارچ کو آر بی آئی نے بینکوں کی فارن ایکسچینج پوزیشن سے متعلق قواعد سخت کیے تھے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ روپے کو مستحکم رکھنے کے لیے شرح سود میں تبدیلی کی جا سکتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق فی الحال شرح سود میں اضافے کا امکان بہت کم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…