نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں نکسل ازم کے خلاف جاری مہم کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ جھارکھنڈ کے جنگلات میں کیے گئے ایک خفیہ اور اعلیٰ سطحی آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے کالعدم سی پی آئی (ماؤ نواز) کے مرکزی کمیٹی کے رکن اور ایک کروڑ روپے کے انعامی ماؤ نواز رہنما مسر بیسرا کو گرفتار کر لیا۔ اس کے ساتھ اس کے دو قریبی ساتھی موچھو اور گورو ہانسدا کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔حکام کے مطابق یہ کارروائی مرکزی وزارت داخلہ کی نگرانی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر انجام دی گئی۔ سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اس کامیابی سے جھارکھنڈ میں ماؤ نواز نیٹ ورک کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
کون ہے مسر بیسرا؟
مسر بیسرا کو مشرقی بھارت میں ماؤ نواز تنظیم کا اہم ترین منصوبہ ساز اور اسٹریٹجک رہنما سمجھا جاتا تھا۔ مرکزی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے وہ جھارکھنڈ، اوڈیشہ، مغربی بنگال اور بہار میں تنظیم کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا تھا۔تحقیقات کے مطابق اس پر سکیورٹی فورسز پر متعدد بڑے حملوں، بارودی سرنگوں کے دھماکوں اور عام شہریوں کے قتل کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ انہی مقدمات کے پیش نظر مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے اس کی گرفتاری پر مجموعی طور پر ایک کروڑ روپے کا انعام مقرر کیا تھا۔
امت شاہ کی ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نکسل ازم کے خاتمے کے لیے “زیرو ٹالرنس” کی پالیسی اپنائی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق حالیہ برسوں میں جدید انٹیلی جنس نظام اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے ماؤ نواز تنظیموں کے اعلیٰ کمانڈروں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں کئی بڑے رہنما مارے گئے یا گرفتار ہوئے۔حکام کا کہنا ہے کہ مسر بیسرا کی گرفتاری بھی اسی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد ماؤ نواز تنظیم کے قیادی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔
گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟
خفیہ ایجنسیوں سے موصول ہونے والی مصدقہ اطلاع کے بعد سی آر پی ایف کی خصوصی کوبرا بٹالین-209 نے جھارکھنڈ کے دشوار گزار جنگلات میں خصوصی آپریشن شروع کیا۔ سکیورٹی فورسز نے خاموشی سے پورے علاقے کا محاصرہ کیا۔حکام کے مطابق جیسے ہی مسر بیسرا اپنے دو ساتھیوں موچھو اور گورو ہانسدا کے ساتھ مقام تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، کوبرا کمانڈوز نے انہیں گھیر لیا۔ کارروائی کے دوران ایک بھی گولی چلائے بغیر تینوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا گیا اور گرفتار کر لیا گیا۔
جھارکھنڈ میں ماؤ نواز نیٹ ورک کو بڑا دھچکا
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسر بیسرا کی گرفتاری ماؤ نواز تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ وہ تنظیم کی حکمت عملی تیار کرنے والے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتا تھا۔ گزشتہ چند برسوں میں جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ میں مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں کئی اہم ماؤ نواز کمانڈر یا تو مارے جا چکے ہیں یا گرفتار کیے جا چکے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ماؤ نوازی کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی اور ملک کے متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی بحالی کے لیے سکیورٹی فورسز پوری مستعدی کے ساتھ کام کرتی رہیں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…