قومی

ڈگری سے مارک شیٹ تک، ہرجگہ صرف Bharat، مہاتما جیوتی با پھولے روہیل کھنڈ یونیورسٹی میں لفظ India ختم، دستاویزوں میں نظرآئے بھارت

مہاتما جیوتی با پھولے روہیل کھنڈ یونیورسٹی نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ بحث اس فیصلے کی ہورہی ہے، جس کے تحت اب یونیورسٹی کی ڈگری، مارک شیٹ اوردیگرسرکاری دستاویزات میں ’انڈیا‘ کی جگہ صرف ’بھارت‘ لکھا جائے گا۔ اس فیصلے کویونیورسٹی کی نئی تعلیمی اورثقافتی سمت سے جوڑکردیکھا جا رہا ہے۔

بھارت کی علمی روایت پرہوگی تحقیق

یونیورسٹی میں ہندوستانی علم اورروایات کے مطالعے کوفروغ دینے کے لیے ’بھارت گیان پرمپرا انوسندھان کیندر‘ قائم کیا جائے گا۔ اس مرکزکا مقصد بھارت کی علمی وراثت اورثقافتی اثاثوں پرگہری تحقیق کوفروغ دینا ہے۔ طلبہ کی ذہنی، سماجی اورجذباتی نشوونما کومدنظررکھتے ہوئے ’آنندم کیندر‘ شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ مرکزطلبہ کی شخصیت سازی اورزندگی کی مثبت اقدارکومضبوط بنانے میں مدد کرے گا۔  نوجوانوں کوخود کفیل بنانے کے لئے ’کوشل وکاس، ادیمیتا اُنّین اورسوالمبن پرکوشٹھ‘ قائم کیا جائے گا۔ اس کے ذریعہ طلبہ کوروزگار، اسٹارٹ اپ اورکاروبارسے متعلق نئے مواقع سے جوڑا جائے گا۔

صنعت اور تعلیم کے درمیان بہتر تال میل

یونیورسٹی نے ’اُدیوگ-یونیورسٹی سہیوگ پرکوشٹھ‘ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مقصد طلبہ کوصنعتی دنیا کی ضروریات کے مطابق تیارکرنا اورصنعت وتعلیمی اداروں کے درمیان بہتررابطہ قائم کرنا ہے۔ تعلیمی معیارکو بہتربنانے کے لیے اکیڈمک اُنّین صلاح کارکمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اسی طرح مالیاتی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مالیاتی انتظام صلاح کارکمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔ یونیورسٹی ایوی ایشن، زراعت اورپیرا میڈیکل جیسے شعبوں میں انڈسٹری اسپانسرڈ کورسزشروع کرنے کی سمت میں کام کرے گی۔ اس کے علاوہ ’پروفیسرآف پریکٹس‘ اسکیم کوفروغ دینے پربھی خصوصی زوردیا جائے گا، تاکہ طلبہ کوتجربہ کارماہرین کی رہنمائی حاصل ہو سکے۔

بڑے پروگراموں کی بھی تیاری

ہندی صحافت کے 200 سال مکمل ہونے کے موقع پریونیورسٹی میں ایک شاندارپروگرام منعقد کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مہاتما جیوتی با پھولے کی 200 سالہ پیدائش کی تقریبات بھی بڑے پیمانے پرمنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ’بھارت بودھ پرگیان شِرنکھلا‘ کا آغازکیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ’وردھ وردان-ودیارتھی سارتھی‘ کورس کے ذریعے طلبہ کوبزرگ شہریوں سے جوڑا جائے گا۔ وہیں ’سمسیا نہیں، سمادھان‘ کورس کے ذریعے نوجوانوں کو موجودہ دورکے مسائل کی شناخت اوران کے حل تلاش کرنے کے لیے ترغیب دی جائے گی۔ یونیورسٹی کے ان فیصلوں کومحض تعلیمی تبدیلی نہیں بلکہ بھارتی اقدار، ہنرمندی، اختراع اورسماجی ذمہ داری سے جوڑکردیکھا جا رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ اقدامات آنے والے وقت میں طلبہ کوتعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ عملی اورسماجی طورپربھی مضبوط بنانے میں اہم کردارادا کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Rahul Gandhi Attacks on Gyanesh Kumar: ’گیانیش کمار رات کو سو نہیں پا رہے ہوں گے‘، مہاریلی میں راہل گاندھی کا چیف الیکشن کمشنر پر حملہ

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ انہوں نے…

4 hours ago

Amit Shah slams Congress: سکھ مخالف فسادات کی برسی پر ریلی نکالنا متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف: امت شاہ

مرکزی وزیر داخلہ نے کانگریس اور راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی…

4 hours ago