قومی

مدارس کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنا شرارت اور اسلاموفوبیا کا مظہر، مولانا محمود مدنی کا سخت بیان

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی نے مرکزی وزیرمملکت برائے وزارت داخلہ، بندی سنجے کمار کے ذریعہ بعض مدارس کو دہشت گردی کی تربیت گاہ بتانے کی شدید مذمت کی ہے اور اس بیان کو وزارت داخلہ کی حیثیت ومعتبریت کی توہین قراردیا ہے۔ مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ان کا بیان شرارت اوراسلامو فوبیا کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ملک کے لئے افسوسناک ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والا شخص حکومت کے ایک سنجیدہ، حساس اور ذمہ دار عہدے پر فائز ہے۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وہ مسلسل ایک مخصوص کمیونٹی کے خلاف ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدارس اسلامیہ اسلامی تہذیب اور ہندوستانی تکثیریت کا ایک اہم حصہ ہیں، جودوصدی سے علم، اخلاقی تربیت اوربین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کا مرکز رہے ہیں۔ مدارس نہ صرف علمی میدان میں اہم کردارادا کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں مذہبی رواداری، امن، اور انصاف کی قدروں کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ درحقیقت دینی مدارس اس ملک کی عظیم وراثت ہیں اوراس کی شناخت اور ثقافتی تنوع سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کودہشت گردی کے ساتھ جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔ بالخصوص ان کے ذریعے مدارس میں جھاڑوسے اے کے 47 بنانے کی بات مضحکہ خیزہے۔ ایسے غیرذمہ دارانہ بیانات پر وزیرداخلہ کومعافی مانگنی چاہئے۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

5 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

6 hours ago