نئی دہلی: قدرتی آفات اورتباہ کن سیلاب نے ہندوستان کی کئی ریاستوں میں لاکھوں لوگوں کوبری طرح متاثرکیا ہے۔ پنجاب، جموں وکشمیر، ہماچل پردیش اوراتراکھنڈ ریاستوں میں عمومی طوربڑاجانی ومالی نقصان ہوا ہے۔ فصلیں تباہ ہوچکی ہیں اورلاکھوں لوگ بے گھرہوچکے ہیں، اب بھی بہت سے علاقے زیرآب ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وہاں مدداورراحت رسانی کے لئے پہلے دن سے ہی صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشد مدنی کی اپیل پرسیلاب زدگان کی مدد کے لئے جمعیۃ علماء ہند کی صوبائی اورضلعی اکائیاں اوراس کے کارکنان سرگرم عمل ہیں اور اس کازمیں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں۔ جمعیۃ علماء میوات اوراترکھنڈ اکائیوں کی متاثرین کے درمیان امداداورریلیف کی تقسیم کے بعد آج جمعیۃ علماء احمدآباد اورجمعیۃ علماء راجستھان امدادی اوررفاہی کاموں کے لئے پنجاب اورجموں وکشمیرپہنچ چکی ہیں۔
مکانات کی تعمیرکی ذمہ داری اٹھائے گئے جمعیۃ علماء کی ریاستی یونٹ
جمعیۃ علماء احمدآباد مفتی منیراحمد کے ساتھ سیلاب زدگان کی مددکے لئے آج 30 لاکھ روپئے کا امدادی سامان لے کرپنجاب کے فاضلکہ کے سیلاب متاثرہ گاؤں میں تقسیم کیا، جس پرسیلاب متاثرین نے کہا کہ شکریہ مولانا ارشد مدنی! آپ نے ہمارے درد کومحسوس کیا جس میں خواتین کے کپڑے، مردوں کے کپڑے، بچوں کے کپڑے (7000 جوڑے) صابن اورٹوتھ پیسٹ کٹس(1300 کٹس)پلاسٹک(1500 کلوگرام) کمبل (1100 عدد) دودھ پاؤڈر(100کلوگرام)چپل (1500جوڑے) مچھردانی (80 عدد) پتیلی وبرتن کے سیٹ (416 عدد) دوپٹہ (2000 عدد) شامل ہیں۔ وہیں دوسری طرف صدرجمعیۃ علماء راجستھان مولانا محمد راشد کے ساتھ مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر12 ستمبرسے جموں کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورہ پرہیں، یہ وفد مذکورہ مقامات سے کہیں پیدل اورکہیں بائک سے سفرکرتا ہوا سب سے پہلے تھرڈ پنچایت، بلی نالہ، چینی، رینگی بسٹ مقامات پرپہنچا، بلی نالہ اورتھرڈ پنچایت میں 73 مکانات کلی طورپرختم ہوچکے تھے، ان میں سے 32 مکانات ایسے ہیں، جن کی زمین بھی ختم ہوچکی تھی، جبکہ 41 مکانات کی زمین باقی ہے، گاؤں کی مسجد اورقبرستان کے نشانات بھی پوری طرح سے ختم ہوچکے ہیں۔ اس کے بعد یہ وفد ضلع ادھم پورکی تحصیل چنینی پہنچا، چنینی میں درجنوں مکانات جزوی طورپرمتاثرہوئے تھے، چینی سے 12 کلومیٹرکے فاصلے پررینگی گاؤں واقع ہے وہاں تقریبا ڈھائی درجن مکان پورے طورپرمنہدم ہوگئے ہیں، ان میں سے تقریباً ایک درجن مکانات کی جگہ بھی ختم ہوگئی، یہاں چونکہ ہائی وے بند تھا، اس لئے کوئی امدادی سامان یا مدد کرنے والی ٹیم ان تک نہیں پہنچ سکی تھی، لیکن اب جمعیۃعلماء راجستھان کی اپیل پرگاڑیاں ریلیف لےکرمسلسل پہنچ رہی ہیں اورتسلسل کے ساتھ ریلیف کا کام جاری ہے، جمعیۃ علماء راجستھان کے اس وفد نے مرکزی قیادت سے مشورہ کے بعد فوری راحت کے طورپرنقد رقم پیش کی۔ علاقہ میں جوحضرات بہت غریب ہیں جمعیۃ علماء راجستھان نے ان کے مکانات کی تعمیرکی ذمہ داری لی ہے، اسی طرح ضلع پونچھ کی تحصیل مینڈرکے گاؤں کالا بن میں 70 مکانات منہدم ہوچکے ہیں، ان کی عارضی رہائش کے لئے پلائی کے مکانات بنانے کا کام بھی جمعیۃ علماء راجستھان نے مرکزی قیادت کی رہنمائی میں کرنے کا عزم ظاہرکیا ہے۔
ضروریات کے سامان تقسیم کئے گئے
مولانا ارشد مدنی کے حکم پرآج جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب کی صوبائی یونٹ کے مختلف اضلاع سے جمعیۃ علماء کے کارکنان نے پنجاب میں آئے سیلاب اوراس سے ہوئے نقصانات والے علاقوں میں سب سے زیادہ جانی اورمالی نقصان ہونے والے علاقہ کا دورہ کیا۔ ضروریات کے سامان بھی تقسیم کئے گئے ہیں، جس میں جانوروں کے لئے چارہ بھی تھا، یہ وہ علاقہ ہے، جوایک طرف توڈسٹرکٹ پٹھان کوٹ کے آخرمیں جموں کشمیرکے بارڈرسے لگتا ہے اوردوسری طرف انٹرنیشنل سرحد ہے۔ گاؤں کا نام کولیاں کتھلورہے، یہ گاؤں راوی دریا سے تقریباً ڈیڑھ کلو میٹرکی دوری پرلب سڑک واقع ہے۔ اس گاؤں میں مسلم گوجراورہندوؤں کے کم وبیش 30 مکانات تھے، مسلمانوں نے ایک مسجد بھی اس بستی میں بنائی ہوئی تھی۔ ان لوگوں نے بتایا کہ 29 اگست کی رات اچانک دریائے راوی اپنی بندشوں کوتوڑتے ہوئے سینکڑوں فٹ پانی کی اونچائی اورتیزبہاؤکے ساتھ ان گھروں تک آپہنچا، جہاں یہ سب لوگ سورہے تھے۔ پانی کی کثرت نے لوگوں میں افراتفری کا ماحول پیدا کر دیا۔ 30 گھروں کے لوگ خود اپنی اوراپنے گھروالوں کی جان بچانے میں توکامیاب ہوگئے، لیکن اپنے گھروں، گھروں میں رکھے قیمتی سامانوں اورجانوروں کوبچانے میں ناکام رہے۔ ان گھروں میں ایک گھرباغ حسین کا بھی تھا، جس نے اپنے سازوسامان کی تباہی کے ساتھ ساتھ اپنے تین بچوں (دوبیٹے جن میں سے ایک کی عمر 7سال اوردوسرے کی 9 سال اورایک بیٹی جس کی عمر12 سال تھی) اوراپنی بوڑھی ماں (جن کی عمر70 سال تھی) کوبھی کھودیا۔ بیٹی اوربوڑھی ماں کی لاشیں توبرآمد ہوگئی تھیں، لیکن دونوں بیٹوں کی لاشیں لاچارباپ اور اہل خانہ کوابھی تک نہیں مل پائی ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند ہرمحاذ پران متاثرین کی خدمت کے لیے کمربستہ ہے۔
جمعیۃ علماء ہند تمام ضرورتمندوں کے لئے کرتی ہے کام
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کریک گونہ اطمینان حاصل ہوا ہے کہ جمعیۃعلماء ہند کی ایک اپیل پر جمعیۃ علماء ہند کی متعددریاستی اکائیوں کے ذمہ داران اورکارکنان سیلاب زدگان کی مدد کے لئے اپنے گھروں سے نکل پڑے ہیں، جس کی جیسی حیثیت ہے، اس حساب سے اس کارخیرمیں مدد کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی یہ اکائیاں اوران کے ذمہ داران اور کارکنان ہی جمعیۃعلماء ہند کی اصل طاقت ہیں۔ مولانا ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ ضرورتمندوں تک یہاں تک کہ دشوار گزارعلاقوں میں بھی ہمارے کارکنان مدد پہنچانے میں کامیاب ہورہے ہیں مصیبت کی گھڑی میں پریشان حال لوگوں کے کام آنا درحقیقت انسانیت کی خدمت کرنا جیسا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند روزاول سے اپنے اکابرین کے بتائے ہوئے اس راستہ پرکامیابی کے ساتھ عمل پیراں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند مذہب پوچھ کرکسی کی مددنہیں کرتی بلکہ وہ اپنا ہرکام بلاتفریق مذہب وملت صرف انسانیت کی بنیادپرکرتی ہے، جمعیۃعلماء ہند ہرضرورتمند کوانسان سمجھ کراس کی مدد کرتی ہے، خواہ اس کا مذہب کچھ بھی ہو۔ مولانا ارشد مدنی نے اخیرمیں کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں جمعیۃعلماء ہند کے لوگ اس وقت تک اپنی امدادی اورفلاحی سرگرمیاں جاری رکھیں گے، جب تک لوگوں کواس کی ضرورت ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی شریک خزانچی راجیش منگل پیر کے روز…
پولیس نے دونوں کو جودھپور کے کیلاش نگر علاقے میں واقع ایک ہوٹل کے کمرے…
یمن میں حوثی باغیوں کے بڑھتے حملوں سے پریشان سعودی عرب نے شام، ترکیہ اور…