قومی

Mani Shankar Aiyar on Gandhi family: گاندھی خاندان نے میرا سیاسی کریئر بنایا بھی اور بگاڑا بھی،پارٹی صرف ایک غلطی سے 2014 کا انتخاب ہار گئی:منی شنکر ائیر

کانگریس کے سینئر لیڈر منی شنکر ائیر نے سونیا، راہل اور پرینکا گاندھی کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ ائیر نے اس بارے میں بھی اپنی رائے بتائی کہ گاندھی خاندان کے تین اہم شخصیات کے ساتھ کیا بات چیت ہوئی اور کب ہوئی۔ اس دوران ائیر نے کہا کہ ان کا کیریئر گاندھی خاندان نے بنایا اور بگاڑا بھی۔ ایک انٹرویو میں منی شنکر ایر نے کہا کہ وہ راہل گاندھی کے ساتھ محدود بامعنی بات چیت کرتے تھے سوائے ایک موقع کے اور انہوں نے صرف دو مواقع پر پرینکا گاندھی کے ساتھ بات چیت کی۔ ائیر نے کہا کہ 10 سال تک مجھے سونیا گاندھی سے آمنے سامنے ملنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ مجھے راہل گاندھی کے ساتھ ایک بار بھی بامعنی وقت گزارنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اور میں نے پرینکا کے ساتھ وقت نہیں گزارا سوائے ایک،دو مواقع کے۔ وہ مجھ سے فون پر بات کرتی ہے، اس لیے میں اس سے رابطے میں ہوں۔ تو میری زندگی کی ستم ظریفی یہ ہے کہ میرا سیاسی کیریئر گاندھی خاندان نے بنایا اور اسی گاندھی خاندان نے بگاڑا بھی۔

منی شنکر ائیر نے اس وقت کو یاد کیا جب 2012 میں کانگریس کے لیے دو آفتیں آئی تھیں۔ جب سونیا گاندھی بیمار ہوئیں اور منموہن سنگھ کو چھ بائی پاس سرجری کرانی پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی نے منموہن سنگھ کے بجائے پرنب مکھرجی کو وزیر اعظم کے طور پر منتخب کرتی اور بعد میں انہیں صدر بناتی تو کانگریس کو 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں اس ذلت آمیز شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جو اسے درحقیقت برداشت کرنا پڑاہے۔تجربہ کار کانگریس لیڈر نے کہا کہ آپ نے دیکھا، 2012 میں ہمارے لیے دو آفتیں رونما ہوئیں، ایک یہ کہ سونیا گاندھی بہت بیمار ہوگئیں اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کو چھ بائی پاس سرجری سے گزرنا پڑا۔ اس لیے ہم حکومت کے سربراہ اور پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے معذور ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر منموہن سنگھ صدر بن جاتے اور پرنب وزیر اعظم بن جاتے، تو مجھے لگتا ہے کہ ہم 2014 (لوک سبھا انتخابات) جیت جاتے، اوروہ ذلت آمیز شکست نہیں  ملتی جو ہمیں ملی، جہاں ہم صرف 44 سیٹیں  بچا پائے۔

ائیر  نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  میں نے ایک بار سونیا گاندھی کو “میری کرسمس” کی مبارکباد دی تھی۔ پھر انہوں  نے کہا، ‘میں عیسائی نہیں ہوں۔’ لیکن میرا اندازہ ہے کہ وہ خود کو مسیحی نہیں سمجھتی۔ جیسے میں خود کو کسی خاص مذہب سے نہیں سمجھتا۔ میں ایک ملحد ہوں، اور میں یہ کہنے کو بالکل تیار ہوں۔ لیکن، ملحد ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں مذاہب کی توہین کرتا ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ میں تمام مذاہب کا یکساں احترام کرتا ہوں۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Special Parliament Session: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی تیاری؟ حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر ہو سکتا ہے بڑا فیصلہ

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…

23 minutes ago

UP Politics: یونیفارم بدلی، رنگ بدلا، کیا بدلے گی قسمت؟ اتر پردیش کی سیاست میں ہلچل پیدا کرنے آیا اکھلیش کا نیا روپ

اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے اپنی روایتی ’لال ٹوپی‘ کے ساتھ ’نیلا رنگ‘…

48 minutes ago

G20 Voice Of Global: عالمی سطح پر ’سوراج‘: گلوبل ساؤتھ کی آواز بن کر کیسے ابھرا بھارت؟ جی 20 سے وائس سربراہی اجلاس تک مکمل تجزیہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…

2 hours ago

Trade in Local Currencies: ڈالر کا دباؤ ختم اور مقامی کرنسی میں تجارت، برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی قیادت میں بنا نیا عالمی روڈمیپ

برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے…

3 hours ago

Women Rights International Law: نصف آبادی، مکمل شناخت: کیا خواتین کو باہر رکھ کر طالبان کو جائز حکومت مانا جا سکتا ہے؟

افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی…

3 hours ago