18ویں برکس (BRICS) سربراہی اجلاس میں بھارت نے ایک اہم سفارتی پیش رفت حاصل کی ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور شدید کشیدگی کے درمیان ایران اور متحدہ عرب امارات (UAE) جیسے مختلف مفادات رکھنے والے ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانا ایک بڑا سفارتی چیلنج سمجھا جارہا تھا۔ تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بھارت نے اس چیلنج سے نمٹتے ہوئے ’نئی دہلی اعلامیہ‘ پر تمام رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے قائم کرلیا۔ اس سے قبل مئی 2026 میں ہونے والے برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں ہوسکا تھا۔ ایسے میں 12 اور 13 ستمبر کو منعقدہ سربراہی اجلاس میں اتفاقِ رائے قائم ہونا بھارت کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات کیسے حل کیے؟
ایران اور متحدہ عرب امارات کے سکیورٹی اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں۔ بھارت نے دونوں ممالک کے ساتھ اپنے مضبوط اور آزادانہ تعلقات سے فائدہ اٹھایا۔ ایک طرف ایران کے ساتھ بھارت کا ’چابہار بندرگاہ‘ منصوبہ علاقائی رابطے کے لیے اہم ہے، تو دوسری جانب متحدہ عرب امارات بھارت کا ایک بڑا تجارتی اور اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ بھارتی سفارت کاروں نے اعلامیہ کی زبان کو اس انداز میں متوازن رکھا کہ علاقائی خودمختاری، بات چیت، شہریوں کے تحفظ اور سمندری تجارت جیسے معاملات کا ذکر بھی ہو اور کسی بھی ملک کے خلاف براہِ راست صف بندی کا تاثر بھی نہ بنے۔
نئی دہلی اعلامیہ کی اہم باتیں
اس اہم اتفاقِ رائے میں صرف جنگ روکنے کے معاملے پر ہی توجہ نہیں دی گئی بلکہ ترقی پذیر ممالک کے اقتصادی مفادات کو بھی اہمیت دی گئی۔
سفارت کاری کے ذریعے حل: مغربی ایشیا اور سوڈان کے بحرانوں کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی گئی۔
یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت: اقوام متحدہ (UN) کی منظوری کے بغیر عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں اور ٹیرف رکاوٹوں پر تنقید کی گئی۔
مقامی کرنسی میں تجارت: برکس ممالک کے درمیان ڈالر کے بجائے اپنی اپنی مقامی کرنسیوں میں کاروبار اور تجارت کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
عالمی اداروں میں اصلاحات: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC)، عالمی بینک اور آئی ایم ایف (IMF) جیسے بین الاقوامی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کو زیادہ نمائندگی دینے کا مطالبہ دہرایا گیا۔
بھارت کے لیے یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟
برکس کی توسیع کے بعد رکن ممالک کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایسے ماحول میں بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اعلامیے میں مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینے اور عالمی اداروں میں اصلاحات جیسے اقتصادی و سفارتی امور پر زور دیا گیا ہے، جو ترقی پذیر ممالک کے مفادات سے متعلق اہم موضوعات ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی…
اکھلیش یادو کے یونیفارم سول کوڈ والے بیان پر سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے، اوم…
اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے…
مدھیہ پردیش کے اندور میں گائے چوری کے شبہ میں ایک نوجوان چندر لوہار کے…
وزیراعظم نریندر مودی نے اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے…
مرکزی وزیرامت شاہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ دھامی کو سالگرہ کی مبارکباد سوشل میڈیا…