قومی

Autonomous Hill Development Council: لداخ کے تمام سات اضلاع میں قائم کی جائیں گی خود مختار ہل ڈیولپمنٹ کونسل، چیف سکریٹری آشیش کندرا کا بڑا اعلان

لداخ کے چیف سکریٹری آشیش کندرا نے پیر کے روز لیہہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ یونین ٹیریٹری انتظامیہ لداخ کے تمام سات اضلاع میں ایک ایک لداخ خود مختار ہِل ڈیولپمنٹ کونسل (LAHDC) قائم کرے گی۔ انہوں نے اس فیصلے کو جمہوری اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مقامی طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ LAHDC ایکٹ کی دفعہ 3(1) پہلے ہی ہر ضلع میں ایک کونسل کے قیام کی گنجائش فراہم کرتی ہے، جس کے لیے صرف سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن جاری کرنا، ضروری ترامیم اور حلقہ بندی (Delimitation) کا عمل مکمل کرنا باقی ہے۔ چیف سکریٹری کے مطابق، لداخ کے تمام سات اضلاع میں قائم ہونے والی کونسلوں کو وہی مکمل اختیارات حاصل ہوں گے جو 1995 سے ضلع لیہہ اور 2003 سے ضلع کرگل کی ہِل ڈیولپمنٹ کونسلوں کو حاصل ہیں۔ اس طرح نئے اضلاع شام، نوبرا، چانگ تھانگ، زنسکار اور دراس کو بھی کسی محدود اختیارات کے بجائے مکمل انتظامی اور ترقیاتی خود مختاری دی جائے گی۔

زمین، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں پر مقامی اختیار

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ نئی کونسلوں کو اپنے اپنے اضلاع میں زمین کی ملکیت اور اراضی کی الاٹمنٹ سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار ہوگا۔ اسی طرح ضلع کیڈر کی ملازمتوں میں بھرتی اور ترقی کے معاملات بھی متعلقہ ضلع کی منتخب کونسل کے دائرہ اختیار میں ہوں گے، جس سے روزگار سے متعلق فیصلے مقامی سطح پر کیے جا سکیں گے۔ ہر خود مختار کونسل کے لیے ایک علیحدہ کونسل فنڈ قائم کیا جائے گا، جبکہ انہیں ٹیکس اور فیس عائد کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہر ضلع اپنی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبے خود تیار کرے گا، تاکہ ترقیاتی ترجیحات کا تعین مقامی سطح پر کیا جا سکے، نہ کہ صرف لے یا کرگل سے۔

صحت، تعلیم، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کی ذمہ داری

نئی ہِل کونسلیں ضلع سطح پر صحت، تعلیم، سیاحت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سماجی بہبود کی مختلف اسکیموں کی نگرانی اور عمل درآمد کی ذمہ دار ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد عوامی خدمات کو زیادہ مؤثر، مقامی ضروریات سے ہم آہنگ اور جواب دہ بنانا ہے۔ چیف سکریٹری نے بتایا کہ ساتوں ہِل کونسلوں کے اوپر یونین ٹیریٹری سطح پر بھی ایک خصوصی ادارہ قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جو آئین کے آرٹیکل 371 کے طرز پر مخصوص اختیارات رکھے گا۔ اس ادارے کو قانون سازی، انتظامی، مالیاتی اور ایگزیکٹو اختیارات دیے جانے کی تجویز ہے۔ ان کے مطابق یہ ماڈل ملک میں اپنی نوعیت کا منفرد ہوگا اور مختلف ریاستوں کے کامیاب انتظامی ماڈلز کی بہترین خصوصیات کو یکجا کرے گا۔

مرکز اور مقامی نمائندوں سے مشاورت کے بعد ہوگا حتمی فیصلہ

چیف سکریٹری نے واضح کیا کہ یونین ٹیریٹری سطح کے مجوزہ ادارے کی ساخت اور اختیارات کا حتمی فیصلہ لداخ کے عوامی نمائندوں اور مرکزی حکومت کے درمیان مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ اس عمل کے دوران ہِل کونسلوں اور مجوزہ ادارے کے اختیارات میں ضرورت کے مطابق توازن بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ پنچایتی راج ادارے بدستور اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔ اس طرح لداخ میں عوامی نمائندگی تین سطحوں پر ہوگی: دیہی (پنچایت)، ضلعی (ہِل کونسل) اور یونین ٹیریٹری سطح، جس سے مقامی جمہوری نظام مزید مضبوط ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Deepika Padukone: بالی ووڈ کے مشہور جوڑے کے گھر ایک بار پھر ننھی پری کی آمد، دیپیکا نے سوشل میڈیا پر شیئر کی خوشخبری

دیپیکا پڈوکون نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر مداحوں کے ساتھ یہ خوشخبری شیئر کی۔…

30 minutes ago

Gold-Silver Price: فیڈرل ریزرو کے شرح سود بڑھانے کے بعد سونے میں تیزی، جانیے تازہ قیمتیں

امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے…

31 minutes ago

Iran Executes Spying Person: اسرائیل کو خفیہ معلومات بھیجنے والا جاسوس گرفتار، ایران نے دی پھانسی

ایرانی عدلیہ کے مطابق حسین پدران نے اصفہان میں فوجی اور میزائل تنصیبات سے متعلق…

1 hour ago

Lalan Singh JDU Prabodhan Programme: جنتا دل یونائیٹڈ کے پروگرام میں غیر حاضری پر لالن سنگھ کی وضاحت، کہا ’میں گجرات میں تھا‘

مرکزی وزیر نے کہا، پروگرام کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پارٹی میں کسی طرح کا…

2 hours ago