قومی

Iran Israel Crisis: مغربی ایشیا بحران میں بھارت کی سفارتکاری متوازن اور دانشمندانہ رہی- آنند شرما

نئی دہلی: سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر رہنما آنند شرمانے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان بھارت کی سفارتکاری کو متوازن اور دانشمندانہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے بیان سے مختلف رائے رکھتے ہوئے کہا کہ موجودہ بحران میں بھارت نے انتہائی محتاط اور سمجھداری پر مبنی پالیسی اختیار کی ہے۔آنند شرما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کئی پوسٹس کرتے ہوئے مغربی ایشیا کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ارمریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی کارروائی کے بعد پورے مغربی ایشیا میں حالات انتہائی سنگین ہو گئے ہیں۔ اس کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر عدم استحکام اور معاشی بحران کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سمیت وہ تمام ممالک جو خام تیل، گیس اور ایل پی جی کے لیے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک پر انحصار کرتے ہیں، اس وقت بڑے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمزسے سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس سے توانائی کا بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ آنند شرما نے کہا کہ دنیا شاید تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحرانوں میں سے ایک کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ وقت عالمی سفارتکاری کے امتحان کا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے خلیجی ممالک کے ساتھ طویل مدتی تعلقات ہیں، جب کہ ایران کے ساتھ ثقافتی روابط بھی مضبوط ہیں۔ ایسے میں بھارت کو متوازن پالیسی اختیار کرتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا۔ آنند شرما کے مطابق تقریباً 200 ارب ڈالر کی تجارت، ایک کروڑ بھارتیوں کی سلامتی اور بیرون ملک سے آنے والی تقریباً 60 فیصد ترسیلات زر بھی اس بحران سے متاثر ہو سکتی ہیں۔آنند شرما نے حکومت کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں کی میٹنگ بلانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی مشاورت جاری رہنی چاہیے تاکہ قومی سطح پر اتفاق رائے قائم رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور سمجھداری کا مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس جنگ کے باعث توانائی، معیشت اور عالمی سلامتی کے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ سپلائی چین میں رکاوٹ، عالمی بازاروں میں گراوٹ اور روپے کی کمزوری جیسے چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے فوری اور طویل مدتی حکمت عملی درکار ہوگی۔ آنند شرما نے کہا کہ بھارت ہمیشہ امن اور اخلاقی قیادت کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو گلوبل ساؤتھ اور اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر امن اور استحکام کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ اس بحران میں دنیا کا مستقبل اور نوجوان نسل کا کل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

14 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

15 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

16 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

17 hours ago