قومی

Himachal Police detained 20 Delhi Police personnel: ہماچل پولیس نے دہلی پولیس کے 20 اہلکاروں کو حراست میں لیا،  اے ائی سمٹ مظاہرین کو لے جارہی ٹیم سولن میں روکا گیا

نئی دہلی :ریاست ہماچل پردیش سے ایک بڑا انتظامی تنازع سامنے آیا ہے، جہاں دہلی پولیس اور مقامی پولیس کے درمیان اختیارات کو لے کر کشیدگی پیدا ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق دہلی پولیس اے آئی سمٹ میں احتجاج کرنے والے یوتھ کانگریس کے تین کارکنوں کو شملہ ضلع کے روہڑو علاقے سے حراست میں لے کر جا رہی تھی، قابل ذکر بات یہ ہے کہ سولن پولیس نے راستے میں کارروائی کرتے ہوئے پوری ٹیم کو روک لیا۔ذرائع کے مطابق سولن ضلع پولیس نے دہلی پولیس کے تقریباً 20 اہلکاروں کو بھی حراست میں لے لیا۔ معاملہ سنگین ہونے کے بعد شملہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ گورو سنگھ خود عدالت پہنچ گئے جہاں پورے واقعے پر قانونی کارروائی شروع کی گئی۔

بتایا جا رہا ہے کہ حراست میں لیے گئے تینوں یوتھ کانگریس کارکنان کو شملہ کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اے سی جے ایم کورٹ نمبر دو میں سماعت ہوئی۔ اس دوران دہلی پولیس کے افسران اور اہلکار بھی عدالت میں موجود رہے۔ اس سے قبل سولن پولیس نے دھرم پور کے قریب تمام افراد کو روک کر مزید کارروائی کی تھی۔پولیس کے مطابق احتجاج میں شامل یہ تینوں کارکن ہماچل پردیش کے مقامی باشندے نہیں ہیں۔ اے آئی سمٹ کے دوران مظاہرہ کرنے کے بعد وہ شملہ کے روہڑو علاقے میں ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھے، جہاں سے دہلی پولیس نے انہیں تحویل میں لیا تھا۔

ہائی وے پر ناکہ بندی، سیاسی بیان بازی بھی تیز

جیسے ہی سولن پولیس کو اس کارروائی کی اطلاع ملی تو چندی گڑھ۔کالکا۔شملہ ہائی وے پر دھرم پور کے مقام پر فوری ناکہ بندی کر دی گئی اور دہلی پولیس کی گاڑیوں کو روک لیا گیا۔ بعد ازاں تمام افراد کو قانونی عمل کے تحت عدالت میں پیش کیا گیا۔ یہ معاملہ اس وقت مزید حساس ہو گیا ،جب انکشاف ہوا کہ احتجاج میں شامل ایک ملزم جتیندر سنگھ دہلی میں واقع ہماچل سدن میں قیام پذیر تھا۔ اس حوالے سے دہلی پولیس نے آدھی رات کو وہاں چھاپہ بھی مارا تھا جس پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا۔ریاست کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے دہلی پولیس کی کارروائی کو آئینی طریقہ کار کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی کارروائی سے قبل ریاستی حکام کو اطلاع دی جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان نے باضابطہ طور پر کمروں کی بکنگ کی تھی اور اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔

ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ہماچل سدن کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جا رہا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ جےرام ٹھاکر نے کہا کہ سرکاری رہائش گاہوں میں قیام کرنے والوں کی مکمل شناخت ظاہر ہونی چاہیے اور اسے کسی سازش کا حصہ نہیں بننے دینا چاہیے۔فی الحال معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور دونوں ریاستوں کی پولیس کے درمیان قانونی اور انتظامی اختیارات کو لے کر صورتحال کشیدہ بنی ہوئی ہے، جبکہ آئندہ کارروائی عدالت کے فیصلے پر منحصر ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nandigram by-election: نندی گرام ضمنی انتخاب، سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حمایت کے اعلان کے بعد کانگریس امیدوار ملن پردھان گرفتار

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…

10 minutes ago

India vs Afghanistan T20: بھارت-افغانستان سیریز کے دوران 19 افراد گرفتار، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…

2 hours ago

Prime Minister Modi: دہلی میں ماحولیات پر بڑا بین الاقوامی اجلاس، وزیر نریندر اعظم مودی 19 ستمبر کو کریں گے افتتاح

’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…

2 hours ago