قومی

Hyderabad’s Butterfly Hospital claimed the life of an innocent child: حیدرآباد کے بٹر فلائی اسپتال میں مبینہ لاپرواہی، 8 سالہ معصوم بچی کی موت پر ہنگامہ، ویڈیو وارئرل

نئی دہلی :تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے اٹاپور علاقے میں واقع بٹر فلائی ہاسپٹل میں علاج کے دوران آٹھ سالہ معصوم بچی کی موت کے بعد شدید ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اہل خانہ نے اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں پر سنگین لاپروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ خاندان کے مطابق بچی گزشتہ دو دن سے انتہائی نازک حالت میں آئی سی یو میں داخل تھی اور مسلسل بے ہوش پڑی رہی، مگر بار بار شکایت کرنے کے باوجود ڈاکٹروں نے مناسب توجہ نہیں دی۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ علاج پر تقریباً 12 سے 14 لاکھ روپے خرچ کرنے کے باوجود بچی کی جان نہ بچائی جا سکی۔ واقعے کے بعد سامنے آئے ایک ویڈیو میں آئی سی یو کے اندر صرف نرسنگ اسٹاف نظر آ رہا ہے جبکہ کوئی ڈاکٹر موجود نہیں دکھائی دیتا، جس کے بعد اہل خانہ کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ موت کی خبر پھیلتے ہی اسپتال کے اندر اور باہر احتجاج شروع ہو گیا اور
صورتحال کشیدہ ہونے پر پولیس کو موقع پر تعینات کرنا پڑا۔

والدین کے سنگین الزامات

غم سے نڈھال والدین اور رشتہ دار اسپتال کے باہر زار و قطار روتے دکھائی دیے۔ بچی کی والدہ نے الزام لگایا کہ وہ ہر گھنٹے ڈاکٹرز سے بچی کی حالت کے بارے میں پوچھتے رہے لیکن انہیں صرف یہی جواب دیا جاتا رہا کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔ ان کے مطابق بچی دو دن سے کوئی ردعمل نہیں دے رہی تھی، اس کے باوجود کسی سینئر ڈاکٹر نے معائنہ نہیں کیا۔ بچی کے والد نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال علاج کے نام پر صرف پیسہ کمانے میں مصروف ہے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا کر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں

واقعے کی اطلاع ملتے ہی گُدّی ملکاپور پولیس اسٹیشن کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور خاندان کی شکایت درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ آئی سی یو میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی واضح طور پر طبی غفلت کی نشاندہی کرتی ہے۔ بچی کو اسپتال میں کب داخل کیا گیا، اس کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، تاہم خاندان کے مطابق معمولی بخار سے شروع ہونے والی بیماری بروقت علاج نہ ملنے کے باعث جان لیوا ثابت ہوئی۔

یہ واقعہ شہر کے نجی اسپتالوں میں مبینہ طبی لاپروائی کے بڑھتے واقعات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ چند روز قبل بھی راجیندر نگر علاقے کے ایک نجی اسپتال میں مبینہ طور پر زائد المیعاد انجیکشن لگنے سے ایک شیر خوار بچے کی موت کا معاملہ سامنے آیا تھا۔متاثرہ خاندان اور مقامی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی اسپتالوں کی نگرانی سخت کی جائے اور مریضوں کی جان سے کھیلنے والے اداروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کو روکا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Riyadh Airport Attack: سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر بھیانک حملہ، 12 افراد ہلاک، 300 سے زائد زخمی، 11 ہندوستانی بھی متاثر

ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں بھاری جانی نقصان کی…

5 hours ago

LG Dr. Dinesh Sharma: شری وجئے پورم میں پہلی بار ڈانڈیا مہوتسو کا انعقاد، لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کی شرکت

انڈمان و نکوبار جزائر کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے شاردیہ نوراتری کے مبارک…

5 hours ago

LG Inaugurated MT IRIS: انڈمان و نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر نے انڈین آئل کے نئے بارج ’ایم ٹی آئرس‘ کا کیا افتتاح

دور دراز جزائر تک ایندھن کی محفوظ اور قابل اعتماد فراہمی کو ملے گی تقویت،…

5 hours ago

LPU Student Suicide: پنجاب، ایل پی یو کے طالب علم کی خودکشی، پی جی کے کمرے میں پنکھے سے لٹکی ملی لاش، علاقے میں ہلچل

جالندھر میں واقع لوولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) کے 21 سالہ طالب علم کی…

6 hours ago