تل ابیب: بھارت اور اسرائیل کے درمیان جدید فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم کی خرید اور ٹیکنالوجی شراکت داری سے متعلق اہم دفاعی معاہدہ حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات میں اس دفاعی سمجھوتے پر بڑی پیش رفت متوقع ہے، جسے بھارت کی قومی سلامتی کے لیے تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آئرن ڈوم نظام بھارت کو حاصل ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف سرحدی علاقوں بلکہ اہم شہری مراکز اور اسٹریٹجک تنصیبات کو راکٹ، ڈرون اور مختصر فاصلے کے میزائل حملوں سے محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس پیش رفت کو خطے میں طاقت کے توازن کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً پاکستان کے ساتھ جاری سیکیورٹی کشیدگی کے پس منظر میں۔
وزیر اعظم مودی اپنے دورۂ اسرائیل کے دوران دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے پہلے ہولوکاسٹ یادگار یاد واشیم کا دورہ کریں گے۔ اس کے بعد دونوں لیڈر یروشلم کے معروف کنگ ڈیوڈ ہوٹل میں دوطرفہ اسٹریٹجک مذاکرات میں شریک ہوں گے، جہاں دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی، تجارت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ملاقات کے دوران اقتصادی، سفارتی اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔ مذاکرات کے اختتام پر دونوں وزرائے اعظم مشترکہ پریس بیان جاری کریں گے جس میں مستقبل کی دفاعی حکمت عملی اور علاقائی صورتحال پر مشترکہ مؤقف پیش کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق بھارت صرف آئرن ڈوم خریدنے تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ ”میک اِن انڈیا“ پروگرام کے تحت اس کی ٹیکنالوجی منتقلی پر بھی زور دے رہا ہے۔ مجوزہ منصوبہ بھارت کے مقامی فضائی دفاعی پروگرام ’’مشن سدرشن چکر‘‘ اور پروجیکٹ کشا کا اہم حصہ بن سکتا ہے، جس کے ذریعے کثیر سطحی دفاعی نظام تیار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ بھارت اسرائیل کے جدید لیزر بیسڈ ’’آئرن بیم‘‘ نظام میں بھی دلچسپی ظاہر کر رہا ہے، جسے کم لاگت اور برق رفتاری سے فضائی خطرات کو ناکام بنانے والی ٹیکنالوجی سمجھا جاتا ہے۔ اس نظام کو طویل فاصلے کے دفاعی پلیٹ فارمز کے معاون کے طور پر استعمال کیا جائے گا تاکہ 2030 تک ایک مضبوط اور تقریباً ناقابلِ تسخیر قومی دفاعی ڈھال قائم کی جا سکے۔
یاد رہے کہ ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران بھارت نے جدید اور دیسی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرحد پار دہشت گردی کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کارروائی میں برہموس ایرو اسپیس کے تیار کردہ سپر سونک میزائل سمیت جدید جنگی طیاروں اور گائیڈڈ ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جسے بھارتی دفاعی حکمت عملی میں اہم موڑ تصور کیا جا رہا ہے۔ دفاعی حلقوں کے مطابق مجوزہ آئرن ڈوم معاہدہ مکمل ہونے کی صورت میں بھارت کی فضائی دفاعی صلاحیت نئی بلندیوں تک پہنچ سکتی ہے اور جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
فائنل کا آغاز کم کم موہود کے لیے آسان نہیں تھا۔ انہیں پہلے سیٹ میں…
دہلی-این سی آر اور آس پاس کے علاقوں میں گزشتہ دنوں ہوئی بارش کے بعد…
’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام میں سیاسی، سماجی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی…
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…