نئی دہلی: مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کی بیٹی نے عدالت میں 10 کروڑ روپے کے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ مقدمے میں متعدد افراد اور آن لائن پلیٹ فارمز کے خلاف مستقل اور لازمی حکمِ امتناعی، ہرجانہ اور غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے انہیں جیفری ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں سے جوڑتے ہوئے ہتک آمیز مواد شائع کیا اور پھیلایا۔
سوشل میڈیا پر منظم مہم کا الزام
دائر کردہ دیوانی مقدمے کے مطابق مدعیہ ایک سرمایہ کاری کے شعبے کی ماہر ہیں جنہیں عالمی سطح پر تقریباً تین دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے، جس میں وال اسٹریٹ پر پیشہ ورانہ خدمات بھی شامل ہیں۔ مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک منظم اور بدنیتی پر مبنی آن لائن مہم چلائی گئی، جس کے تحت سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جھوٹے اور گمراہ کن الزامات پھیلائے گئے۔ دعوے میں کہا گیا ہے کہ 22 فروری 2026 کے آس پاس سے متعدد مضامین، ویڈیوز، تھریڈز، تھمب نیلز اور کیپشنز آن لائن شائع کیے گئے، جن کے ذریعے مدعیہ کو جیفری ایپسٹین اور اس کی مجرمانہ سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ یہ مواد مبینہ طور پر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک، لنکڈ ان کے ساتھ ساتھ بلاگز اور ڈیجیٹل نیوز پورٹلز پر وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا۔
مالی روابط کے جھوٹے الزامات
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور نامعلوم افراد (جنہیں مقدمے میں ’’جان ڈو‘‘ یا ’’اشوک کمار‘‘ کے طور پر درج کیا گیا ہے) نے مل کر یہ جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کی کہ مدعیہ کے جیفری ایپسٹین یا اس کے ساتھیوں کے ساتھ مالی، ذاتی یا کاروباری روابط تھے۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بعض پوسٹس میں غلط طور پر کہا گیا کہ مدعیہ یا ان کی کمپنی Realm Partners LLC کو ایپسٹین یا اس کے نیٹ ورک سے مالی فائدہ ملا تھا۔ دعوے میں یہ بھی کہا گیا کہ کچھ پوسٹس میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ مدعیہ نے رابرٹ ملارڈ کے ساتھ مل کر Lehman Brothers کے انہدام میں کردار ادا کیا تھا۔ مدعیہ نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مکمل طور پر جھوٹا قرار دیا ہے۔
10 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ
مدعیہ کا کہنا ہے کہ اس ہتک آمیز مواد کو عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر دیکھا اور شیئر کیا گیا، جس سے ان کی پیشہ ورانہ ساکھ، ذاتی وقار اور مالیاتی شعبے میں مقام کو نقصان پہنچا ہے۔ مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں نشانہ اس لیے بنایا گیا کیونکہ وہ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کی بیٹی ہیں، جو ماضی میں انڈین فارن سروس (IFS) میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اس وقت مرکزی کابینہ میں اہم عہدہ رکھتے ہیں۔ عدالت سے رجوع کرنے سے قبل مدعیہ نے اپنے وکیل کے ذریعے 6 مارچ 2026 کو سیز اینڈ ڈسسٹ نوٹس جاری کیا تھا، جس میں ملزمان کو 72 گھنٹوں کے اندر ہتک آمیز مواد ہٹانے اور مزید اشاعت سے باز رہنے کو کہا گیا تھا۔ تاہم مقدمے کے مطابق نوٹس کے باوجود نہ تو مواد ہٹایا گیا اور نہ ہی اس کی اشاعت روکی گئی۔ اسی بنا پر مدعیہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ مذکورہ مواد کو ہٹایا جائے، مستقبل میں ایسی اشاعت پر پابندی لگائی جائے، 10 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کیا جائے اور ملزمان سے غیر مشروط معافی طلب کی جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…
سری لنکا کی ناقص بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ…
سندھ کے پانی کی تقسیم پر پاکستان کی فوج اور پنجاب کو ذمہ دار قرار…
اسٹار لنک نیٹ ورک کو تیزی سے پھیلانے کے لیے اسپیس ایکس کی مسلسل سیٹلائٹ…
باجھانگ ضلع میں 42 سالہ خاتون بملہ دیوی کا بیمار کتے کو زندہ پل سے…
سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…