بین الاقوامی

Iran Rejects Trump’s Deal: ایران نے ٹرمپ کے معاہدے کے دعوے کو کیا مسترد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیک فٹ پر

نئی دہلی: ایک جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن ایران نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی طرح کے جنگ بندی (سیز فائر) یا مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعد امریکی صدر کے موقف میں تبدیلی نظر آئی۔ تازہ بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، لیکن تہران اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر آمادہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور عالمی منڈیوں میں جاری کشیدگی اور اتار چڑھاؤ کو کم کرنے کے لیے امریکہ مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے انہوں نے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپیل

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اپنے جنگی جہاز وہاں تعینات کریں، لیکن اس اپیل کو خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی اور اب تک کسی ملک نے اس کی باضابطہ حمایت نہیں کی۔  دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اس ’’غیر قانونی جنگ‘‘ کے خلاف جتنا بھی وقت لگے دفاع کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم نے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی مذاکرات کی بات کی ہے۔ جب تک ضرورت ہوگی، ہم اپنے دفاع کے لیے تیار رہیں گے۔‘‘ عراقچی کے مطابق ایران اپنی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک امریکی صدر اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر لیتے کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں کسی کی جیت ممکن نہیں۔

مذاکرات پر سوال

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اس بات کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ امریکہ سے بات کرے، کیونکہ جب امریکہ نے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تب بھی دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری تھی۔ اس سے قبل ہفتہ کے روز امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران مذاکرات میں دلچسپی ظاہر کر رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک جنگ جاری ہے، واشنگٹن کسی جنگ بندی معاہدے میں جلد بازی نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا: ’’ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن میں ابھی ایسا نہیں کرنا چاہتا کیونکہ موجودہ شرائط کافی بہتر نہیں ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago