لکھنؤ کے سروجنی نگر اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو پر کیے گئے قابلِ اعتراض تبصرے اور ’ناری شکتی‘ کے بارے میں اہم باتیں کہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان میں خواتین طاقت کی علامت ہیں، کمزوری کی نہیں۔ ملک اپنی ثقافت پر حملہ برداشت نہیں کرے گا۔
ہندوستانی روایت پر انگلی اٹھا کر کی جا رہی ہے خواتین کی توہین: راجیشور سنگھ
انھوں نے کہا کہ ’’آج کچھ لوگ خواتین کے وقار اور ہندوستانی روایت پر انگلیاں اٹھا کر نہ صرف ایک عورت بلکہ پوری قوم کی روح کی توہین کر رہے ہیں۔ وہ نہ ثقافت کے متلاشی ہیں اور نہ ہی قوم کے خیر خواہ ہیں۔ ان کی خاموشی اور غیر جانبداری دراصل جرم میں ملوث ہونے کے مترادف ہے۔ خواتین کے روایتی لباس کا مذاق اڑانے والے، ساڑی جیسے باوقار لباس کو غلامی کی علامت قرار دینے والے ہماری سناتن تہذیب کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔ یہ بھارت کی روح کے خلاف ایک سرد جنگ ہے۔‘‘
عورت صرف جسم نہیں بلکہ ایک خیال ہے: راجیشور سنگھ
راجیشور سنگھ نے مزید کہا کہ عورت نہ صرف خاندان کا محور ہے بلکہ وہ سماج اور ثقافت کی بنیاد بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کی سرزمین پر گارگی، اپالا، میترے جیسے علماء نے ویدوں میں گفتگو کی۔ جھانسی کی رانی اور اہلیہ بائی ہولکر نے ہتھیار اٹھائے، درگا، کالی اور چندی کے روپ میں بھی خواتین نے ناانصافی اور جبر کے خلاف جنگ لڑی۔
آج کی خاموشی بن جائے گی کل کا داغ
راجیشور سنگھ نے مزید کہا کہ اگر آج ہم خواتین پر ہونے والے حملوں پر خاموش رہے تو آنے والی نسل ہمیں بزدل اور موقع پرست کہے گی۔ خاص طور پر جب مولویوں اور بنیاد پرستوں کی بوسیدہ سوچ کھلے عام خواتین کی عزت کو للکارتی ہے تو معاشرے کی خاموشی انھیں مزید ہمت دیتی ہے۔ وہ نظریہ جو 9 سال کی بچیوں کی شادی کو جائز قرار دیتا ہے، خواتین کو جائیداد، تعلیم یا گواہی کا حق نہیں دیتا، وہ ہندوستان کی ثقافت سے میل نہیں کھا سکتا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہر ہندوستانی کو ایسی بنیاد پرست سوچ کی نہ صرف مخالفت کرنی چاہیے بلکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے بھی پہل کرنی چاہیے۔ یہ وہی ذہنیت ہے جس نے افغانستان، شام، یمن جیسے ممالک کو پسماندگی کی کھائی میں دھکیل دیا۔ اگر آج ہم نے اس سوچ کو چیلنج نہ کیا تو ہندوستان کو بربریت کی طرف بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’’عورت ہندوستانی ثقافت کی بنیاد ہے، وہ ایک دیوی ہے، ایک طاقت ہے، ایک الہام ہے۔ جو بھی اس وقار کو ٹھیس پہنچاتا ہے وہ نہ صرف عورت بلکہ پوری قوم کی توہین کرتا ہے۔ یہ اکیسویں صدی ہے، اب خاموش رہنا گناہ ہے۔ جو خاموش ہے وہ بھی مجرم ہے۔ کھڑے ہو جاؤ، بولو، احتجاج کرو – کیوں کہ ہندوستانی ثقافت ہمیں خواتین کی عزت کرنا سکھاتی ہے، نہ کہ ان کی توہین ہوتے ہوئے دیکھنا۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…