نئی دہلی: وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک مضمون شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا آبی انتظامی ماڈل گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے اہم اور مفید سبق پیش کرسکتا ہے۔ مضمون میں زور دیا گیا ہے کہ آبی تحفظ محض بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تک محدود نہیں، بلکہ اس کے لیے بہتر منصوبہ بندی، مضبوط مقامی اداروں اور پانی کے انتظام میں عوام کی فعال شمولیت بھی ضروری ہے۔ پی ایم او نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’بھارت سے آبی حکمرانی کا ایک ایسا ماڈل سامنے آ رہا ہے جو وسیع تر گلوبل ساؤتھ کے لیے مفید سبق پیش کرتا ہے۔ آبی تحفظ صرف بنیادی ڈھانچہ بنانے کے بارے میں نہیں، بلکہ اچھی منصوبہ بندی، مضبوط مقامی نظام اور پانی کے انتظام میں برادریوں کو شامل کرنے کے بارے میں بھی ہے۔‘
گجرات کے تجربات سے ملک گیر منصوبوں تک
مضمون میں کہا گیا ہے کہ گجرات میں آبی اصلاحات سے لے کر ملک بھر میں بڑے پیمانے پر نافذ کیے گئے قومی پروگراموں تک بھارت کا سفر ان ممالک کے لیے ایک عملی مثال پیش کرتا ہے جو آبی انتظام کو بہتر بنانے اور پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔ مضمون کے مطابق، گجرات میں پانی کے شعبے میں کیے گئے مختلف اصلاحات نے ایسے تجربات کو جنم دیا جنہیں بعد میں ملک گیر سطح پر کئی پروگراموں میں آگے بڑھایا گیا۔ اس سلسلے میں گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے 2001 سے 2014 کے دورِ اقتدار میں شروع کیے گئے اقدامات کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ گجرات میں ہونے والی آبی انتظامی اصلاحات نے ایک طرح سے ایسی تجربہ گاہ کا کردار ادا کیا، جس کے تجربات کو 2014 کے بعد ملک بھر میں نافذ کیے گئے متعدد پروگراموں میں وسعت دی گئی۔
’انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک‘ میں آبی تحفظ پر زور
حال ہی میں نئی دہلی میں ’انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک‘ کے نویں ایڈیشن کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس کا مرکزی موضوع ’آب و ہوا سے ہم آہنگ اور لچک دار آبی انتظام‘ تھا۔ مضمون کے مطابق، اس دوران گزشتہ ایک دہائی میں بھارت کے آبی شعبے میں حاصل ہونے والی پیش رفت کے ساتھ مستقبل کے چیلنجز پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ ان میں پانی کی فراہمی کو پائیدار بنانا، پانی کے زیادہ مؤثر استعمال کو فروغ دینا اور استعمال شدہ پانی کو ماحولیاتی اور معاشی وسائل کے طور پر دیکھنا شامل ہے۔
’گلوبل ساؤتھ کے لیے بھارت کا تجربہ اہم‘
مضمون میں کہا گیا ہے کہ عالمی آبی شعبے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت کا اثر نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور پانی تک رسائی کے مسائل سے نمٹنے والے ملک کے طور پر بھارت اب سیلاب اور خشک سالی جیسی شدید موسمی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔ ایسے میں مضمون کے مطابق بھارت کے تجربات گلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتے ہیں، خاص طور پر ان ملکوں کے لیے جو پانی کی بڑھتی ہوئی طلب اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے دوچار ہیں۔
ندیوں کی بحالی سے پانی کے تحفظ تک کئی بڑے پروگرام
مضمون کے مطابق، گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران بھارت نے آبی حکمرانی کو بہتر بنانے، دریاؤں کی بحالی، پانی اور صفائی کی سہولیات تک رسائی بڑھانے کے ساتھ ساتھ برادریوں کی شمولیت پر مبنی پانی کے تحفظ اور آبی وسائل کے فروغ کے لیے کئی بڑے پروگرام نافذ کیے ہیں۔ ان میں سوچھ بھارت مشن، جل جیون مشن، جل شکتی ابھیان، نمامی گنگے، اٹل بھوجل یوجنا اور ’پر ڈراپ مور کراپ‘ جیسے اہم پروگرام شامل ہیں۔ مضمون میں گجرات کے تجربات کو ان ملک گیر اقدامات کے لیے ایک اہم بنیاد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے میں جہازوں پر حملوں کے مسلسل واقعات بھارت کے…
مظفر نگر کے طالب کو میرٹھ کی ذاکر کالونی میں قتل کیا گیا، بیوی علمہ…
ہرمن پریت نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ کے ذریعے تمام…
انڈیا اتحاد کے اس احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار…
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ’انڈیا‘ بلاک کے تقریباً 300…
پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب بڑھ رہے اپوزیشن کے مارچ کو…