قومی

PM Narendra Modi Vision: پی ایم مودی کے وژن کو عملی شکل دینے کی سمت بڑا قدم، گوالیار میں ایشیا کے پہلے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کی تیاری

وزیر اعظم نریندر مودی کے ’آتم نربھر بھارت‘ اور ’میک اِن انڈیا، میک فار دی ورلڈ‘ کے وژن کے مطابق مدھیہ پردیش کے گوالیار میں ایشیا کا پہلا ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون (TMZ) قائم کرنے کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔ مرکزی وزیر مواصلات و شمال مشرقی خطے کی ترقی جیوتی رادتیہ سندھیا کی پہل سے تیار کیے جانے والے اس اہم منصوبے کا بھومی پوجن 29 اکتوبر کو ہوگا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جیوتی رادتیہ سندھیا کی دعوت قبول کرتے ہوئے تقریب میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ منصوبہ گوالیار کے شریمنت مادھو راؤ سندھیا کاؤنٹر میگنیٹ سٹی (SADA) میں تقریباً 170 ایکڑ اراضی پر تیار کیا جائے گا۔ اسے خصوصی اقتصادی زون کی طرز پر پلگ اینڈ پلے ماڈل کے تحت ترقی دینے کا منصوبہ ہے، جہاں کمپنیوں کو پہلے سے تیار بنیادی ڈھانچہ اور مشترکہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

ٹیلی کام سے سیمی کنڈکٹر تک صنعتوں کو ملے گا فروغ

ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون میں ٹیلی کام آلات اور پرزوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ ڈیزائن، تحقیق و ترقی (R&D)، ٹیسٹنگ، آپٹیکل فائبر، سیمی کنڈکٹر اور 5G-6G ٹیکنالوجی سے متعلق صنعتوں کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔ منصوبے کے تحت 24 سے زائد مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس سے گوالیار-چمبل خطے میں جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

5,500 کروڑ سے زائد کی سرمایہ کاری، 18 ہزار روزگار کے امکانات

دہلی، ممبئی اور بنگلورو میں منعقد کی گئی سرمایہ کار میٹنگز کے بعد اس منصوبے کے لیے 5,500 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 18 ہزار سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے بنیادی ڈھانچے کے لیے مرکزی حکومت 493 کروڑ روپے کی 100 فیصد مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت نے اس منصوبے کے لیے زمین مفت فراہم کی ہے۔

ریاستی حکومت کی 51 فیصد، محکمہ ٹیلی مواصلات کی 49 فیصد شراکت

ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کے لیے قائم کی جانے والی اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) میں مدھیہ پردیش حکومت کی 51 فیصد اور محکمہ ٹیلی مواصلات کی 49 فیصد حصہ داری ہوگی۔ منصوبے کے حامیوں کے مطابق، گوالیار میں ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کے قیام سے سرمایہ کاری، روزگار اور تکنیکی ترقی کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی گوالیار-چمبل خطے کو ٹیلی کام آلات، آپٹیکل فائبر، سیمی کنڈکٹر اور نئی نسل کی ٹیکنالوجی سے متعلق صنعتوں کے لیے ایک اہم صنعتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Eknath Shinde met PM Modi: وزیر اعظم مودی سے ملے ایکناتھ شندے، خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کے لیے مرکز سے بڑی مالی مدد کی امید

مہاراشٹر میں خشک سالی کی سنگین صورتحال پر تقریباً ایک گھنٹے تک ہوئی بات چیت،…

10 minutes ago

Singer Sunita Rao Story: سونیتا راؤ نے 90 کی دہائی کے ہٹ گانے کا سنایا قصہ، کہا- ’’غلط سنگر کو دیا گیا تھا کریڈٹ‘‘

فلم ’کھلاڑیوں کا کھلاڑی‘ میں ریوینا ٹنڈن کے علاوہ سابق ڈبلیو ڈبلیو ایف، جو اب…

29 minutes ago