نئی دہلی، 6 جون
“ایک قوم، ایک وطن – ہندوستان” کے عنوان سے منعقدہ مسلم دانشور کانفرنس برائے قومی و بین الاقوامی امور میں ملک بھر سے ممتاز مسلم دانشوروں، ماہرینِ تعلیم، مذہبی اسکالرز، قانونی ماہرین، سماجی کارکنان، صحافی، نوجوان نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ نئی دہلی کے ہریانہ بھون میں منعقدہ اس کانفرنس کی صدارت ڈاکٹر اندریش کمار، قومی رہنما (مارگ درشک)، مسلم راشٹریہ منچ نے کی۔
قومی یکجہتی اور اشتراکی قوم سازی پر زور
کانفرنس کا مقصد قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی، تعلیمی ترقی اور ہندوستانی مسلمانوں کے قوم سازی میں مثبت کردار پر بامعنی گفتگو کو فروغ دینا تھا۔ اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر اندریش کمار نے کہا کہ ہندوستان کے تمام شہری ایک مشترکہ ورثے، مشترکہ تقدیر اور مشترکہ قومی ذمہ داری سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی “تنوع میں وحدت” ہے، اور تمام شہریوں کو تفرقہ انگیز سوچ سے بالاتر ہو کر مشترکہ قومی شناخت کو اپنانا چاہیے۔
سابق صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم یا معاشرے کا مستقبل اس کے منتخب کردہ رول ماڈلز سے متعین ہوتا ہے۔ نوجوان نسل کو ایسے افراد سے تحریک حاصل کرنی چاہیے جو علم، حب الوطنی، خدمت، اختراع اور انسانیت کی علامت ہوں، نہ کہ نفرت اور تقسیم کے نمائندہ کرداروں سے۔
کانفرنس میں “ایک قوم، ایک وطن – ہندوستان” کا تصور مرکزی موضوع کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ مقررین نے زور دیا کہ ہندوستان کی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور قومی اتحاد اسی وقت مضبوط ہو سکتا ہے جب تمام شہری خود کو سب سے پہلے ہندوستانی سمجھیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔
نالندہ اپروچ: تہذیبی ورثےکی اہمیت
کانفرنس کے دوران نالندہ کی تاریخی وراثت کا بھی ذکر کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ نالندہ صرف ایک عظیم تعلیمی مرکز نہیں تھا بلکہ ہندوستانی تہذیب، کردار سازی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی علامت بھی تھا۔ ہندوستان کی عظمت صرف علم میں نہیں بلکہ ان اخلاقی اصولوں میں مضمر ہے جو معاشرے کو متحد رکھتے ہیں۔
تعلیم، کردار سازی اور سمجی سرمایہ کاری پر اتفاقِ رائے
پروفیسر ڈاکٹر شاہد اختر، قومی کنوینر، مسلم راشٹریہ منچ اور قائم مقام چیئرمین، نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (NCMEI)، نے کہا کہ ہندوستان کی تہذیبی روایات اور آئینی اقدار قومی اتحاد کی مضبوط بنیاد ہیں۔ انہوں نے دانشوروں اور سماجی قیادت سے اپیل کی کہ وہ مکالمے کو فروغ دیں، سماجی فاصلے کم کریں اور قوم سازی کے عمل میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے سماجی شمولیت کے “اہم پل” کا کردار ادا کرتے ہیں۔
کرنل طاہر مصطفیٰ، رجسٹرار، جامعہ ہمدرد اور قومی کنوینر، انٹیلیکچول سیل و شعبہؑ اشاعت، مسلم راشٹریہ منچ، نے کہا کہ اس نوعیت کی نشستیں محض مباحثے کے لیے نہیں بلکہ مسائل کے عملی حل تلاش کرنے کے لیے منعقد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے “تعلیم” اور “تربیت” کے درمیان واضح فرق کرتے ہوئے کہا کہ کردار سازی ہی ایک مضبوط اور ہم آہنگ قوم کی اصل بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی چیلنجز کا مقابلہ صرف تعمیری مکالمے اور عملی اقدامات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ڈاکٹر شالینی علی، سماجی کارکن اور قومی کنوینر، مسلم راشٹریہ منچ، نے تعلیم، ہنر مندی اور سماجی سرمایہ کاری کو معاشرتی ترقی کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے صبر، تسلسل اور طویل مدتی وژن ناگزیر ہے۔ انہوں نے زکوٰۃ کو نوجوانوں کی تعلیم، ہنرمندی، کاروباری صلاحیتوں اور خود انحصاری کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
محمد افضل، قومی کنوینر، مسلم راشٹریہ منچ، نے کہا کہ قوم سازی میں ہر شہری کی مساوی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر اندریش کمار کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے اسی وقت ترقی کرتے ہیں جب وہ علم، خدمت، حب الوطنی اور سماجی ذمہ داری کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔
شاہد سعید، قومی کنوینر و میڈیا انچارج، مسلم راشٹریہ منچ، نے قومی بیانیے کی تشکیل میں میڈیا کے کلیدی کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو نہ صرف خبریں پیش کرنی چاہئیں بلکہ معاشرے کی رہنمائی کرتے ہوئے قومی اتحاد اور مثبت سوچ کو فروغ دینے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
کانفرنس میں اساتذہ، پروفیسرز، وکلاء، عدلیہ سے وابستہ شخصیات، محققین، طلبہ، خواتین نمائندگان اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے بھرپور شرکت کی۔ قومی اور بین الاقوامی موضوعات پر ہونے والی گفتگو میں سماجی ہم آہنگی، تعلیمی بااختیاری، آئینی اقدار اور جامع ترقی پر خصوصی زور دیا گیا۔
ہندوستان فرسٹ، ہندوستانی بیسٹ، کے عزم کے ساتھ اختتام
کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے “ہندوستان فرسٹ، ہندوستانی بیسٹ” کے عزم کا اعادہ کیا اور ایک ترقی یافتہ اور مضبوط ہندوستان کی تعمیر کے لیے قومی یکجہتی، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داری کے فروغ کا عہد کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر اندریش کمار نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اس عزم کو ایک تحریک میں تبدیل کریں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ “قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے، لیکن ایک ذمہ دار دانشور دونوں سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔”
اجلاس کا اختتام اس مضبوط پیغام کے ساتھ ہوا کہ ہندوستان کا مستقبل تقسیم اور تصادم سے نہیں بلکہ مکالمے، تعاون، قومی یکجہتی اور مشترکہ قوم سازی کے جذبے سے روشن ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…