قومی

Delhi Assembly Special Session: دہلی اسمبلی کا خصوصی اجلاس:سی ایم ریکھا گپتا خواتین کے ریزرویشن بل پر اپوزیشن کے خلاف مذمتی تحریک کریں گی پیش

نئی دہلی :دہلی اسمبلی  میں آج ایک اہم خصوصی اجلاس سیاسی ہلچل کے درمیان منعقد ہونے جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں بلائے گئے اس اجلاس کا بنیادی مقصد خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق قانون، یعنی ناری شکتی وندن ایکٹ کے نفاذ میں درپیش رکاوٹوں پر غور کرنا اور اپوزیشن کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کرنا ہے۔دہلی حکومت کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق بل مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا اور منظور نہیں ہو پایا۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اپوزیشن جماعتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے عمل میں رکاوٹ ڈالی اور اس اہم بل کی مخالفت کر کے خواتین کے ساتھ ناانصافی کی۔

خصوصی اجلاس کا اہم ایجنڈا: اپوزیشن کو نشانہ بنانا

 خواتین کے ریزرویشن سے متعلق بل لوک سبھا میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت کی کمی کی وجہ سے پاس نہیں ہو سکا۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اپوزیشن پر خواتین کو بااختیار بنانے کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے اور خواتین کے خلاف ‘خیانت’ کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا ہے۔ سیشن کے دوران اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک مذمتی تحریک پیش کی جائے گی۔ اجلاس کی کارروائی صبح 11 بجے شروع ہوگی۔ ابتدائی مرحلے میں اراکین اسمبلی اسپیکر کی اجازت سے اپنے اپنے حلقوں کے مسائل اور عوامی مفاد کے معاملات ایوان میں پیش کریں گے۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ، جو وزارتِ خزانہ کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، مالی سال 2024-2025 کے لیے دہلی حکومت کے مالیاتی اور اخراجاتی گوشوارے ایوان میں پیش کریں گی۔ اجلاس کے اختتام پر وہ قاعدہ 90 کے تحت ایک سرکاری قرارداد پیش کریں گی، جس میں ناری شکتی وندن ایکٹ کو پاس نہ ہونے دینے پر اپوزیشن کی مذمت کی جائے گی۔

یہ بل دراصل ملک کی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے مقصد سے پیش کیا گیا تھا۔ اس کے تحت نشستوں کی تعداد 543 سے بڑھا کر 816 کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت کا منصوبہ تھا کہ اس قانون کو 2029 کے عام انتخابات سے پہلے نافذ کر دیا جائے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ لوک سبھا میں ووٹنگ کے دوران بل کو 298 ووٹ حمایت میں اور 230 ووٹ مخالفت میں ملے، جو دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹوں سے کم تھے، جس کے باعث یہ بل منظور نہ ہو سکا۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ حکومت بغیر ذات پر مبنی مردم شماری کے حلقہ بندی (ڈیلِمیٹیشن) کرنا چاہتی ہے، جو کہ غیر منصفانہ ہوگا۔سیاسی مبصرین کے مطابق دہلی اسمبلی کا یہ خصوصی اجلاس نہ صرف خواتین کے حقوق کے حوالے سے اہم ہے بلکہ اس سے آنے والے دنوں میں سیاسی ماحول مزید گرم ہونے کا بھی امکان ہے۔ یہ بحث اس بات کا تعین کرے گی کہ خواتین کی نمائندگی کے معاملے پر سیاسی جماعتیں کس حد تک سنجیدہ ہیں اور مستقبل میں اس بل کو دوبارہ پیش کرنے کے امکانات کیا ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi’s Diwali Message: دیوالی پر وزیر اعظم مودی کا پیغام، بولے- یہ مایوسی پر امید کی ابدی جیت کی علامت ہے

وزیر اعظم مودی نے حکومت ہند کے ’جن سمپرک پورٹل‘ پر جاری اپنے پیغام میں…

1 hour ago

Bank Holiday: آج ہفتہ کو بینک کھلے ہیں یا بند؟ دیوالی سمیت آنے والے دنوں میں بینکوں کی چھٹیوں کی فہرست

 آج بینکنگ کا کام معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ ایسے میں عام طور پر…

2 hours ago

Rupee jumps 56 paise to 93.91: ڈالر کے مقابلے روپے میں زبردست تیزی، 56 پیسے مضبوط ہوکر 93.91 پر بند

ڈیلروں کا کہنا تھا کہ غیر ملکی بینک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی…

3 hours ago