نئی دہلی: دہلی پولیس نے پیر کی شام لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے نزدیک ہونے والے دھماکے میں ملوث ہنڈائی آئی 20 کار کا 11 گھنٹے کا مکمل سفر نامہ حاصل کرلیا ہے۔ اس دھماکے میں کم سے کم 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد دہلی اور گرد و نواح میں سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔ تحقیقات کے مطابق کار فرید آباد سے روانہ ہوئی اور دہلی کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے کئی مقامات سے گزری۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق:
صبح 7 بجکر 30 منٹ پر کار ایشین اسپتال فرید آباد کے باہر دیکھی گئی۔
8 بجکر 13 منٹ پر کار بادرپور ٹول پلازہ عبور کرکے دہلی میں داخل ہوئی۔
8 بجکر 20 منٹ پر اوکھلا صنعتی علاقے کے قریب ایک پیٹرول پمپ کے پاس نظر آئی۔
دوپہر 3 بجکر 19 منٹ پر یہ گاڑی لال قلعہ پارکنگ میں داخل ہوئی اور تقریباً تین گھنٹے تک وہیں کھڑی رہی۔
6 بجکر 22 منٹ پر کار پارکنگ سے باہر نکلی اور 24 منٹ بعد یعنی 6 بجکر 52 منٹ پر کار میں زوردار دھماکہ ہوا۔
ممکنہ فدائین حملے کے خدشات
ابتدائی تحقیقات میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دھماکہ فدائین طرز کا حملہ ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جیسے ہی مشتبہ شخص کو یہ اطلاع ملی کہ فرید آباد میں ایک نیٹ ورک پکڑا جا چکا ہے، اس نے ممکنہ طور پر خودکش طرز کا حملہ کر کے زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ تحقیقات یہ بھی دیکھ رہی ہیں کہ آیا اصل ہدف کوئی اور مقام تھا کیونکہ دھماکہ کے وقت کار نسبتاً آہستہ رفتار میں تھی۔
فرید آباد سے دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی
اس واقعے سے قبل جموں و کشمیر اور ہریانہ پولیس نے مشترکہ کارروائی میں فرید آباد سے 360 کلو دھماکہ خیز مواد اور بڑی مقدار میں اسلحہ و آلات برآمد کیے تھے۔ اس کیس میں ڈاکٹر مزمل اور عادل راتھر کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
لال قلعہ کے آس پاس سکیورٹی مزید سخت
واقعے کے بعد ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کو موقع پر تعینات کردیا گیا ہے جبکہ دہلی پولیس، اسپیشل سیل، کرائم برانچ اور ایف ایس ایل کی ٹیمیں تحقیقات میں مصروف ہیں۔ اب تک 100 سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور موبائل ڈیٹا ڈمپ کے ذریعے مشتبہ رابطوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق تفتیش کار ان نمبروں اور ڈیوائسز کا بھی سراغ لگا رہے ہیں جو دھماکے کے فوراً بعد بند ہوگئے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا یہ حملہ کسی منظم نیٹ ورک کا حصہ تھا۔
مقصد اور نیٹ ورک کی مکمل شناخت کی کوشش
پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کار دھماکے میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد کہاں سے آیا، کس نے پہنچایا اور منصوبہ بندی کہاں ہوئی۔ مشتبہ نیٹ ورک میں یونیورسٹی سے منسلک کچھ افراد کا نام بھی سامنے آیا ہے جن کی سرگرمیوں کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ دہلی پولیس نے واضح کیا ہے کہ تمام پہلوؤں پر مکمل باریک بینی سے تحقیق جاری ہے اور بہت جلد دھماکے کی پوری کہانی سامنے آنے کی امید ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے…
آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…