بین الاقوامی

Vladimir Putin Visit India Next Month : روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے بھارت دورے کی تیاری شروع، دہائیوں پر محیط دوستی کو نیا عروج دینے کی کوشش

ماسکو: بھارت اور روس کے تعلقات کی تاریخ نصف صدی سے بھی زیادہ پرانی اور اعتماد پر مبنی ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ دفاعی اور تجارتی میدانوں میں بھی ایک دوسرے کے قریبی شراکت دار رہے ہیں۔ اسی دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے آئندہ ماہ بھارت کے مجوزہ دورے کی تیاریاں کریملن نے باضابطہ طور پر شروع کر دی ہیں۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے پیر کو میڈیا سے گفتگو کے دوران تصدیق کی کہ روسی صدر کا بھارت دورہ سال کے اختتام سے قبل متوقع ہے۔ پیسکوف نے کہاکہ ”ہم اس وقت پوتن کے دورۂ بھارت کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ امید ہے کہ یہ ایک بامعنی اور نتیجہ خیز دورہ ثابت ہوگا“۔

یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی روابط میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ 7 نومبر کو بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے روس کے نائب وزیر خارجہ آندرے روڈینکو سے ملاقات کی تھی، جس میں دو طرفہ تعاون کے نئے امکانات اور عالمی و علاقائی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ جے شنکر نے سماجی پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ”روس کے نائب وزیر خارجہ آندرے روڈینکو سے ملاقات خوشگوار رہی۔ ہم نے دوطرفہ تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی معاملات پر بھی تبادلۂ خیال کیا“۔

بھارت اور روس کی دوستی محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں تاریخ میں گہری ہیں۔ خاص طور پر دفاعی شعبے میں روس بھارت کا دیرینہ شراکت دار رہا ہے۔ 1950 اور 60 کی دہائی میں جب بھارت نے اپنی دفاعی بنیادیں مضبوط کرنا شروع کیں، روس نے اسے مگ-21 لڑاکا طیاروں سے لے کر جدید ایس-400 میزائل سسٹم، سخوئی جیٹ طیارے اور ٹی-90 ٹینک تک کی فراہمی کے ذریعے مضبوط کیا۔ آج بھی بھارت اپنی دفاعی صنعت میں روسی ٹیکنالوجی کے تعاون سے “میڈ اِن انڈیا” ہتھیار تیار کر رہا ہے۔

بھارت کو ایک جانب چین اور دوسری جانب پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کی جانب سے سلامتی کے چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے میں روس ہمیشہ ایک قابلِ اعتماد اتحادی کے طور پر بھارت کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ دفاعی معاہدوں سے لے کر توانائی کے شعبے تک، روس نے ہر موقع پر بھارت کی تزویراتی خودمختاری کی حمایت کی ہے۔ حال ہی میں دونوں ممالک کے تعلقات کی پائیداری کا مظاہرہ اس وقت ہوا جب امریکہ نے بھارت پر روسی تیل کی درآمد بند کرنے کے لیے معاشی دباؤ ڈالا۔ تاہم، بھارت نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی توانائی پالیسی خود طے کرے گا اور کسی بیرونی ملک کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔

عالمی سیاست کے نئے محاذ گلوبل ساؤتھ میں بھی بھارت اور روس کی شراکت داری نمایاں ہے۔ روس اس اتحاد میں اپنی موجودگی مستحکم کر رہا ہے جبکہ بھارت عالمی سطح پر ترقی پذیر ممالک کے مفادات کی وکالت کر رہا ہے۔ پوتن کے آئندہ دورے کو نہ صرف دو طرفہ تعلقات کے نئے باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا اعتماد اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کی علامت بھی بن سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago