بین الاقوامی

Houthi Missile Attack: حوثی حملوں میں 13 افراد زخمی، سعودی عرب کے کئی شہروں میں ایمرجنسی الرٹ

نئی دہلی : یمن کے ایران نواز حوثی باغی گروپ نے پیر کو دعویٰ کیا کہ اس نے جنوبی سعودی عرب میں واقع کنگ خالد ایئر بیس پر بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گروپ نے بحیرۂ احمر کے اہم بحری راستے پر واقع کئی اسٹریٹجک جزیروں پر اپنا قبضہ اور دائرۂ اثر بھی کافی بڑھا لیا ہے۔ حوثی گروپ کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ خمیس مشیط میں واقع اس اہم ایئر بیس کے فوجی ڈھانچے کو درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان میں طیاروں کے ہینگر، ریڈار، رن وے اور اسلحہ و گولہ بارود کے ڈپو خاص طور پر شامل تھے۔ گروپ نے دعویٰ کیا کہ ان منظم حملوں سے ایئر بیس کو بھاری نقصان پہنچا ہے، تاہم آزاد ذرائع سے فوری طور پر اس نقصان کی شدت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

13 شہری زخمی، کئی شہروں میں ایمرجنسی الرٹ

ان حملوں اور جوابی کارروائی کے درمیان شہریوں کی سلامتی کو لے کر بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملوں میں 13 شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔ اس کے بعد سعودی سول ڈیفنس نے صورتحال کو سنبھالتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی۔ بعد میں حکام نے واضح کیا کہ فوری خطرہ اب ٹل چکا ہے۔احتیاطی اقدام کے طور پر سعودی حکام نے خمیس مشیط، ابہا، طائف، جدہ اور جازان سمیت کئی اہم جنوبی شہروں میں ایمرجنسی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ فوجی کارروائی گزشتہ پانچ دنوں کے دوران یمن بھر میں سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے 300 سے زیادہ فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ گروپ کا دعویٰ ہے کہ سعودی ایف-15 اور ٹائفون جنگی طیاروں نے خمیس مشیط اور طائف کے ایئربیس سے پرواز کر کے یہ حملے کیے تھے۔

سعودی عرب نے بھی حوثی ٹھکانوں پر بمباری تیز کی

سعودی عرب اور ایران نواز حوثی گروپ کے درمیان ایک بار پھر پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے درمیان سعودی اتحاد نے بھی حوثی ٹھکانوں پر اپنی بمباری تیز کر دی ہے۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے 300 سے زیادہ فضائی حملوں کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔اس کے باوجود حوثی قیادت نے کھلی دھمکی دی ہے کہ اگر یمن پر فضائی حملے نہیں روکے گئے تو وہ سعودی عرب کی حدود کے اندر مزید جارحانہ کارروائیاں کرے گی۔ حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع مزید بڑھا تو وہ اس کے جواب میں پہلے سے کہیں بڑے اور تباہ کن حملے کر سکتے ہیں۔پیر کو سامنے آنے والا یہ تازہ دعویٰ گزشتہ ہفتے سعودی عرب پر کیے گئے ایک اور بڑے حوثی حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس حملے میں گروپ نے خمیس مشیط اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا تھا۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں میں کئی افراد زخمی ہوئے تھے اور تیل کی تنصیبات میں آگ بھی لگ گئی تھی۔

حوثیوں کا گریٹر حنیش اور لیسر حنیش جزیروں پر مکمل قبضہ

اس فوجی کشمکش کے درمیان یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں حوثی گروپ کی بڑھتی ہوئی گرفت عالمی تجارت کے لیے ایک بڑا بحران بنتی جا رہی ہے۔ اسی دوران حوثی باغیوں نے یمن کے مغربی ساحل اور انتہائی اہم باب المندب آبنائے کے قریب واقع کئی اسٹریٹجک جزیروں پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کر لیا ہے۔یمنی حکومت اور حوثی حکام نے پیر کو تصدیق کی کہ باغیوں نے گریٹر حنیش اور لیسر حنیش جزیروں پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ یہ دونوں اہم اسٹریٹجک جزیرے باب المندب آبنائے سے تقریباً 160 کلومیٹر شمال میں واقع ہیں۔یہ اسٹریٹجک قبضہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حوثی گروپ نے یمن کے مغربی ساحل پر تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے موچا بندرگاہ اور میون جزیرے، جسے پریم جزیرے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پر بھی اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع پریم جزیرے پر قبضے کے ساتھ حوثیوں کی اس نئی فوجی پیش قدمی نے سعودی عرب کی تیل برآمدات اور عالمی توانائی سلامتی پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ اس سے قبل ایک فضائی حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی انتہائی اہم ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن بھی بند ہو گئی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

7 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

7 hours ago