قومی

Intra-Family Property Dispute: خاندانی جائیداد تنازع سے جڑے فوجداری ہتک عزت مقدمے کو دہلی ہائی کورٹ نے خارج کردیا

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ایک طویل عرصے سے جاری خاندانی جائیداد اور وصیت (ٹیسٹامینٹری) تنازع سے متعلق فوجداری ہتکِ عزت کی کارروائی کو منسوخ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالتی عرضداشتوں یا پولیس میں درج شکایت میں لگائے گئے الزامات محض اسی بنیاد پر تعزیرات ہند کے تحت ہتک عزت کے زمرے میں نہیں آتے۔

عدالت نے کن احکامات کو منسوخ کیا

20 جنوری 2026 کو سنائے گئے فیصلے میں ہائی کورٹ نے فوجداری ضابطۂ کار کی دفعہ 482 کے تحت دائر عرضیوں کو منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے جاری فوجداری شکایت، سمن آرڈر اور تعزیرات ہند کی دفعات 499 اور 500 کے تحت نوٹس قائم کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا۔

مقدمے کی بنیاد کیا تھی؟

یہ فوجداری شکایت اس الزام پر مبنی تھی کہ خاندان کے ایک فرد نے دوسرے فرد کے خلاف تین مختلف مواقع پر ہتک آمیز بیانات دیے تھے: پولیس میں درج ایک شکایت، جس میں دستاویزات میں جعلسازی کا الزام لگایا گیا۔ دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت وصیتی مقدمے میں داخل کی گئی تحریری اعتراضات۔ مقامی رہائشی فلاحی ایسوسی ایشن میں مبینہ طور پر گردش کرنے والا ایک غیر دستخط شدہ خط۔

پولیس شکایت پر عدالت کا موقف

عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ جعلسازی سے متعلق ایف آئی آر پہلے ہی تفتیش کے مرحلے میں ہے۔ ایسی صورت میں کسی مجاز اتھارٹی کے سامنے کی گئی شکایت کو ہتک عزت قرار نہیں دیا جاسکتا، خاص طور پر جب کسی مجاز عدالت نے ابھی تک ان الزامات کو جھوٹا ثابت نہ کیا ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ نیک نیتی کے ساتھ بااختیار اداروں کو دی گئی شکایات، ہتک عزت سے متعلق قانونی استثنا کے تحت محفوظ ہوتی ہیں۔

عدالتی عرضداشتوں پر ہتک عزت نہیں بنتی

ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ کسی مقدمے کی پیروی یا دفاع کے دوران عدالت میں دیے گئے بیانات یا الزامات بذات خود فوجداری ہتک عزت کا سبب نہیں بن سکتے۔ عدالت کے مطابق فریقین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تمام قانونی نکات اٹھائیں اور اگر ہر عدالتی عرضداشت کو ہتک عزت کے دائرے میں لایا جائے تو یہ انصاف تک رسائی کو متاثر کرے گا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی عرضداشت کو جھوٹا قرار دیا جائے تو اس کا حل جھوٹی گواہی (پرجری) سے متعلق دفعات کے تحت ممکن ہے، نہ کہ الگ سے ہتک عزت کے مقدمے کے ذریعے۔

’اشاعت‘ کی شرط بھی پوری نہیں ہوئی

عدالت نے کہا کہ فوجداری ہتک عزت کے لیے ’اشاعت‘ (Publication) ایک لازمی جز ہے، جو عدالتی عرضداشتوں کے معاملے میں پورا نہیں ہوتا، کیونکہ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا کہ ان بیانات کو عوامی سطح پر اس انداز میں پھیلایا گیا ہو جس سے مدعی کی ساکھ متاثر ہوئی ہو۔

غیر دستخط شدہ خط پر بھی ثبوت ناکافی

رہائشی فلاحی ایسوسی ایشن میں مبینہ طور پر گردش کرنے والے غیر دستخط شدہ خط کے حوالے سے عدالت نے کہا کہ ابتدائی طور پر بھی ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جو ملزم کو اس خط کی تحریر یا تقسیم سے جوڑتا ہو۔ عدالت کے مطابق خاندانی تنازع کی بنیاد پر محض شبہ کی بنیاد پر فوجداری کارروائی جاری نہیں رکھی جا سکتی۔

عدالت کا حتمی فیصلہ

ہائی کورٹ کے مطابق اگر شکایت میں لگائے گئے تمام الزامات کو من و عن تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی ہتک عزت کا کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا۔ عدالت نے کہا کہ ایسے حالات میں فوجداری کارروائی جاری رکھنا قانون کے غلط استعمال کے مترادف ہوگا، چنانچہ شکایت اور اس سے متعلق تمام احکامات کو منسوخ کر دیا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Adani Foundation: سون بھدر میں اڈانی فاؤنڈیشن اور آئی سی ڈی ایس نے منایا 9واں قومی غذائیت ماہ

اس مہم کے دوران بچوں کی صحت اور ان کی غذائی حالت کا جائزہ لینے…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi:وزیر اعظم مودی نے نوراتری کے موقع پر لوگوں کو پیش کی مبارکباد

نوراتری کے دوسرے دن عقیدت مند دیوی کو پھولاور روایتی بھوگ پیش کرتے ہیں اور…

2 hours ago

Virat Kohli Test Retirement: وراٹ کو ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور کیا گیا، اجیت اگرکر پر سنگین الزامات

گزشتہ سال وراٹ کوہلی کی ریڈ بال سے پریکٹس کرتے ہوئے کئی ویڈیوز سامنے آئی…

3 hours ago

CJP Protest Again: سی جے پی پھر کرے گی احتجاج؟ آشوتوش رنکا کا اعلان، بولے- دہلی پولیس کے پاس 24 گھنٹے کا وقت

سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے…

3 hours ago