نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں فضائی آلودگی کے انتہائی خطرناک سطح پر پہنچنے کے بعد دہلی حکومت نے اہم فیصلہ لیتے ہوئے نرسری سے لے کر جماعت پنجم (پانچویں) تک کے تمام طلبہ کے لیے اسکولوں کو آن لائن موڈ میں منتقل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ حکومتی سرکلر کے مطابق، دہلی میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) مسلسل شدید (Severe) زمرے میں برقرار ہے، جس کے باعث بچوں کی صحت کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ 15 دسمبر کو جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگلے احکامات تک نرسری سے جماعت پنجم تک فزیکل کلاسز مکمل طور پر معطل رہیں گی۔
تمام سرکاری و نجی اسکولوں پر لاگو
یہ ہدایات دہلی کے سرکاری، سرکاری امداد یافتہ اور تسلیم شدہ نجی اسکولوں سب پر یکساں طور پر نافذ ہوں گی۔ اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ آن لائن تعلیم کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور والدین و سرپرستوں کو فوری طور پر نئے انتظامات سے آگاہ کیا جائے تاکہ کسی قسم کی الجھن نہ ہو۔
جماعت ششم سے اوپر ہائبرڈ موڈ جاری
حکم نامے کے مطابق جماعت ششم (چھٹی) سے اوپر کے طلبہ کے لیے پہلے سے جاری ہدایات کے مطابق ہائبرڈ موڈ (آن لائن + آف لائن) میں تعلیم جاری رہے گی۔
دہلی میں آلودگی کی تشویشناک صورتحال برقرار
دہلی میں پیر کے روز بھی فضائی آلودگی کی صورتحال انتہائی خراب رہی۔ سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق صبح تقریباً 8 بجے AQI 452 ریکارڈ کیا گیا، جو ’شدید‘ زمرے میں آتا ہے۔ وہیں کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ کے مطابق شام 4 بجے AQI 457 تک پہنچ گیا۔
زہریلی دھند سے شہری متاثر
اتوار کے بعد پیر کو بھی شہر کے بڑے حصے زہریلی دھند (سموگ) کی لپیٹ میں رہے، جس سے حدِ نگاہ کم ہوئی اور عوام کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ بگڑتی ہوئی فضائی آلودگی نے صحت عامہ کے لیے سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ماہرین طب کے مطابق دارالحکومت اس وقت ایک ’’خاموش صحت عامہ کے بحران‘‘ سے دوچار ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) مسلسل شدید زمرے میں برقرار ہے۔
او پی ڈی میں مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ
طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ آلودہ فضا کے طویل اثرات کے باعث بچوں اور بڑوں دونوں میں سانس اور دل کی بیماریوں کے کیسز میں تقریباً 90 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسپتالوں کی او پی ڈیز میں سانس لینے میں دشواری، مسلسل کھانسی، دمہ، الرجی اور آنکھوں میں جلن کی شکایات عام ہو چکی ہیں۔
PM2.5 ذرات جسم کے لیے انتہائی خطرناک
ایشیئن اسپتال کے ڈائریکٹر اور شعبۂ امراض تنفس کے سربراہ ڈاکٹر مانومنچندا کے مطابق PM2.5 جیسے باریک ذرات پھیپھڑوں میں گہرائی تک داخل ہو کر خون میں شامل ہو جاتے ہیں، جس سے دائمی سانس کی بیماریاں، دل کا دورہ، فالج اور قوت مدافعت میں کمی جیسے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی فضائی آلودگی اب محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک سنگین صحت عامہ کا بحران بن چکی ہے۔
بچے، بزرگ اور حاملہ خواتین سب سے زیادہ متاثر
ڈاکٹر منچندا کے مطابق بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ طویل عرصے تک آلودہ ہوا میں سانس لینے سے ذہنی دباؤ، تھکن، بے چینی اور توجہ میں کمی جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
90 فیصد سے زائد بچے سانس کی بیماریوں میں مبتلا
سر گنگارام اسپتال کے سینئر ماہر اطفال ڈاکٹر دھیرین گپتا نے بتایا کہ اس وقت بچوں میں سانس کی بیماریوں کے کیسز 90 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بچے زمین کے قریب ہونے، منہ سے زیادہ سانس لینے اور تیز سانس کی رفتار کے باعث آلودگی کے زیادہ اثرات قبول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی بچے شدید دمے کے ساتھ اسپتال پہنچ رہے ہیں اور بعض کو آئی سی یو میں داخل کرنا پڑ رہا ہے۔
دل اور پھیپھڑوں کے مریضوں کے لیے خاص انتباہ
پی ایس آر آئی انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین ڈاکٹر جی سی کھلنانـی کے مطابق آلودگی کے باعث ایسے مریض بھی متاثر ہو رہے ہیں جنہیں پہلے کوئی سنگین بیماری نہیں تھی، جبکہ دل اور پھیپھڑوں کے پرانے مریضوں کی حالت مزید بگڑ رہی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ لوگ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ دمہ اور دل کے مریض صبح کی سیر سے گریز کریں اور باہر نکلتے وقت N95 یا N99 ماسک کا استعمال کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…