دہلی میں سردی کا ستم بڑھنے والا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آج سے دارالحکومت سمیت تقریباً 10 ریاستوں میں شدید سردی کی لہر دیکھنے کو ملے گی۔ ان میں دہلی، یوپی، بہار، ایم پی، راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور مہاراشٹر کے کچھ علاقے شامل ہیں۔ آئندہ 4 سے 5 روز تک کڑاکے کی سردی جاری رہنے کا امکان ہے۔ دہلی میں آج کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 24 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہنے کا اندازہ ہے۔ ساتھ ہی صبح و شام دھند کی چادر بھی دکھائی دے گی۔
دہلی کی ہوا زہریلی
سردی کے ساتھ ساتھ دہلی کی ہوا بھی زہریلی ہو گئی ہے۔ منگل کی شام دارالحکومت کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 372 درج کیا گیا جو ’’بہت خراب‘‘ زمرے میں آتا ہے۔ شہر کے 15 سے زیادہ علاقوں میں حالات انتہائی سنگین سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ پیر کو AQI 304 تھا اور اتوار کو 279، یعنی حالات مسلسل بگڑ رہے ہیں۔ پیشگی الرٹ نظام کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی دہلی کی فضا ’’بہت خراب‘‘ ہی رہنے کا امکان ہے۔ رات میں دھند اور دن میں ہلکی ہوا چل سکتی ہے۔ دوپہر میں ہوا کی رفتار 5 کلو میٹر فی گھنٹہ اور شام و رات میں 10 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
آلودگی پر قابو پانے کی کوشش
آلودگی پر قابو پانے کے لیے دہلی میونسپل کارپوریشن نے منگل کو کئی اقدامات کی منظوری دی۔ میئر راجہ اقبال سنگھ نے افسران کو ہدایت دی کہ ہوا اور دھول کی آلودگی کے خلاف ٹھوس کارروائی کی جائے۔ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے عملی تجاویز پیش کی گئیں۔ادھر، راجستھان میں بھی سردی نے اثر دکھانا شروع کر دیا ہے۔ بیکانیر کے لونکرنسر میں کم سے کم درجہ حرارت 4.7 ڈگری سیلسیس درج ہوا۔ فتح پور میں 6.6، گنگا نگر میں 6.9، الور میں 8، چورو میں 9 اور بیکانیر میں 9.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں رات کا درجہ حرارت مزید گر سکتا ہے۔ 4 دسمبر کے بعد جے پور اور بیکانیر ریجن میں سردی کی لہر کا اثر اور تیز ہونے کا امکان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ڈاکٹرعماررضوی نے اپنے صدارتی خطاب میں دونوں ایوارڈ یافتگان اورافسانہ نویس انعام یافتہ طلبہ کو…
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران برج کمیونیکیشنز سماجی ترقی کے شعبے میں ایک جامع اور…
بین الاقوامی اجلاس میں دنیا کی اہم فلسفیانہ اور تہذیبی روایات کے درمیان مکالمے، مصنوعی…
انٹرنیشنل پریاگ راج فلم فیسٹیول 2026 کا شاندارانعقاد ایم این آئی ٹی آڈیٹوریم میں ہوا۔…
مہاتما جیوتی با پھولے روہیل کھنڈ یونیورسٹی نے کئی بڑے فیصلے کئے ہیں۔ اب یونیورسٹی…
مسابقہ میں کشمیرسے کنیاکماری تک سے تقریباً 600 سے زائد حفاظ وقراء اس کے کل…