بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کا کیمپس منگل کی دیر رات ایک تناؤ بھری فضا میں تبدیل ہو گیا۔ معمولی سا جھگڑا اچانک سنگین رخ اختیار کر گیا اور طلبہ و سکیورٹی گارڈز کے درمیان تکرار شدید نوبت تک پہنچ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے حالات بگڑ گئے اور کیمپس میں زبردست ہنگامہ برپا ہو گیا۔ پولیس کو طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود طلبہ نے کئی گھنٹوں تک پتھراؤ جاری رکھا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
اصل میں تنازع کی شروعات اس وقت ہوئی جب راجارام ہاسٹل کے ایک طالبعلم کو کیمپس میں ایک گاڑی نے ٹکر مار دی۔ اس واقعے کے بعد بڈلا ہاسٹل سمیت دیگر طلبہ نے احتجاج کیا اور پروکٹیریل بورڈ کے دفتر جا کر شکایت درج کرانے کی کوشش کی۔ اسی دوران دونوں جانب سے بحث اتنی بڑھ گئی کہ معاملہ ہاتھ سے نکل گیا۔
اس کے بعد چوراہے سے لے کر ایل ڈی گیسٹ ہاؤس تک طلبہ نے شدید توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کیا۔ ہاتھوں میں راڈ اور ڈنڈے لیے ہوئے طلبہ نے سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا اور ایل ڈی چوراہے پر رکھی کرسیاں بھی توڑ ڈالیں۔ سڑک کنارے کھڑی کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ پولیس کی کارروائی میں کئی طلبہ زخمی ہوئے۔
پولیس اور پی اے سی کی تعیناتی
حالات بگڑنے پر بی ایچ یو انتظامیہ نے پولیس اور پی اے سی کو طلب کیا۔ دس چوکیوں اور پانچ تھانوں کی فورس کیمپس میں تعینات کی گئی۔ اے سی پی بھیلوا پور کی قیادت میں پولیس نے گشت کر کے صورتحال پر قابو پایا۔ فی الحال کیمپس میں امن ہے تاہم کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔
ACP نے کیا بتایا؟
اے سی پی گورَو کمار نے بتایا کہ طلبہ اور سیکیورٹی گارڈز کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ پروکٹر کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو سنبھالا۔ ابھی تک بی ایچ یو انتظامیہ کی طرف سے کوئی تحریری شکایت نہیں دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت ملنے کے بعد ہی آگے کی کارروائی کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…
گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے…
آچاریہ لوکیش کے خطاب نے سیمینار میں موجود سیکڑوں نوجوانوں، فوجیوں اور دانشوروں میں نیا…
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…