قومی

Abhijeet Dipke: ابھیجیت دیپکے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے، کہا تحریک ختم نہیں ہوئی، 20 جولائی کو ‘پارلیمنٹ مارچ’ ہوگا، ویڈیو وائرل

نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر جاری سونم وانگچک کی تحریک نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ سماجی کارکن سونم وانگچک کو طبیعت بگڑنے کے بعد دہلی پولیس کی جانب سے صفدر جنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے فوراً بعد احتجاجی مقام پر ایک نیا منظر دیکھنے کو ملا۔ وانگچک کی عدم موجودگی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے تحریک کی قیادت سنبھالتے ہوئے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔اس دوران اسٹیج پر ایک غیر متوقع اور جذباتی منظر بھی سامنے آیا۔ ابھیجیت دیپکے خطاب کے دوران جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور حاضرین کے سامنے آبدیدہ ہو گئے۔

ان کے رونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق جمعہ کی صبح دہلی پولیس نے سونم وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر انہیں صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ اس کارروائی کے بعد جنتر منتر پر موجود مظاہرین میں شدید ناراضی دیکھی گئی۔ وانگچک کے اسپتال منتقل ہونے کے بعد ابھیجیت دیپکے اسٹیج پر آئے اور احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

 دیپکے نے حکومت کے رویے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے لداخ سے متعلق مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران وہ جذباتی ہو گئے اور ان کی آواز بھرّا گئی، جس کے بعد وہ اسٹیج پر ہی رونے لگے۔ ان کا یہ منظر دیکھ کر احتجاج میں شریک کئی افراد بھی جذباتی نظر آئے۔

بعد ازاں ابھیجیت دیپکے نے مائیک سنبھالتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ سونم وانگچک کی حمایت میں فوری طور پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کسی صورت ختم نہیں ہونے دی جائے گی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔دیپکے نے مزید کہا کہ جب تک حکومت ان کے مطابق عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتی اور احتجاج کے خلاف سخت کارروائیاں بند نہیں کرتیں، وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔ ان کے اس اعلان کے بعد جنتر منتر پر موجود مظاہرین میں ایک نئی توانائی دیکھی گئی اور انہوں نے حکومت اور پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی بھی تیز کر دی۔ اس دوران احتجاجی مقام پر سکیورٹی کے سخت انتظامات برقرار رہے جب کہ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

1 hour ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

2 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

3 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

4 hours ago