قومی

JNU Election Result: جے این یو اسٹوڈنٹس یونین انتخابات میں اے بی وی پی کوشکست دے کر بائیں بازو نے صدر سمیت چار عہدوں پر حاصل کی کامیابی

JNU Election Result: دہلی کی باوقار جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طلبہ یونین کے انتخابات میں بائیں بازو کے امیدوار نے صدر اور نائب صدر کے عہدے پر کامیابی حاصل کی ہے۔ بائیں بازو کے دھننجے نے صدر کے عہدے پر اور اویجیت گھوش نے نائب صدر کے عہدے پر کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ ابتدائی رجحانات میں اے بی وی پی چاروں سیٹوں پر آگے تھی لیکن آخری رجحانات میں بائیں بازو نے واپسی کی۔

آپ کو بتا دیں، بائیں بازو کے امیدوار دھننجے کو جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کے عہدے کے لیے کل 2598 ووٹ ملے۔ وہیں اے بی وی پی امیدوار امیش چندر اجمیرا کو 1686 ووٹ ملے۔ اس کے علاوہ نائب صدر کے عہدے کے لیے بائیں بازو کے امیدوار نے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ اویجیت گھوش کو 2409 ووٹ ملے اور اے بی وی پی امیدوار دیپیکا شرما کو 1482 ووٹ ملے۔

کون ہیں جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے نئے صدر دھننجے؟

صدر کے عہدے کے لیے بائیں بازو کے جیتنے والے امیدوار دھننجے اسکول آف آرٹس اینڈ ایستھیٹکس سے پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ دھننجے گیا بہار کے رہنے والے ہیں اور دلت برادری سے آتے ہیں۔ ان کے والد ریٹائرڈ پولیس اہلکار ہیں۔ تقریباً 27 سال بعد، دلت برادری کے ایک امیدوار نے جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کے عہدے پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس سے قبل بتی لال بیروا نے 1996-97 میں کامیابی حاصل کی تھی۔

آپ کو بتا دیں، جے این یو اسٹوڈنٹس یونین انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے دوران بائیں بازو کے حامیوں میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا۔ بائیں بازو کے امیدواروں کی برتری کو دیکھ کر طلبہ ‘پورا کیمپس سرخ ہے’ کے نعرے لگاتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں- JNUSU Elections Result 2024: اے بی وی پی کو ابتدائی برتری حاصل، ووٹوں کی گنتی جاری

ان دونوں سیٹوں پر بھی بائیں بازو نے حاصل کی کامیابی

اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات میں جنرل سکریٹری کی سیٹ کے لیے کھڑے ارجن آنند (ABVP) کو کل 1961 ووٹ ملے۔ وہیں پریانشی آریہ 2887 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں۔ پریانشی (BAPSA، بائیں بازو کی حمایت کرنے والی) امیدوار ہیں۔ وہیں جوائنٹ سکریٹری کے عہدے کے لیے مقابلہ کرنے والے گووند ڈانگی (اے بی وی پی) نے 2066 ووٹ حاصل کیے جبکہ محمد ساجد (بائیں) نے کل 2575 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ ایک وقت تھا جب بائیں بازو کے امیدوار اے بی وی پی کے امیدواروں سے کئی ووٹوں سے پیچھے رہ گئے تھے، لیکن رات تک رجحانات واضح ہوتے گئے اور اے بی وی پی امیدوار دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔

-بھارت ایکسپریس

Mohd Sameer

Recent Posts

Delhi-NCR Air Pollution: دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی کی اصل وجہ کا پتہ لگائے گی نئی تجربہ گاہ، مودی حکومت کی اہم پہل

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ملک کی پہلی خصوصی اے اے ٹی ایل تجربہ…

2 minutes ago

Gold-Silver Price: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ، تین دن میں چاندی 10,100 روپے سستی

سونے کے دام میں بھی 3,610 روپے کی کمی، تہواروں کے موسم میں خریداری کا…

18 minutes ago

ODI Series: ون ڈے سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل کرنے کے ارادے سے اترے گی ٹیم انڈیا، زمبابوے کو دورے کی پہلی جیت کی تلاش

بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم اور زمبابوے کے درمیان ون ڈے سیریز کا دوسرا مقابلہ اتوار…

56 minutes ago

Jio Platforms IPO: شیئر بازار میں JIO کی شاندار انٹری کی تیاری، لسٹنگ کے ساتھ بھارت کی ٹاپ 3 کمپنیوں میں ہوگی شامل

ریلائنس انڈسٹریز کے جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او سرمایہ کاروں کے درمیان زبردست…

1 hour ago