قومی

Batla House Demolition Case: بٹلہ ہاؤس میں نہیں چلے گا بلڈوزر! دہلی ہائی کورٹ نے ڈی ڈی اے سے مانگا جواب

بٹلہ ہاؤس علاقے میں بلڈوزر کارروائی سے فوری طور پر راحت مل گئی ہے۔ ابھی کسی قسم کی کارروائی ڈی ڈی اے کی طرف سے نہیں کی جائے گی۔ دہلی ہائی کورٹ نے ڈی ڈی اے کو نوٹس جاری کردیا ہے اور اس پورے معاملے پر جواب مانگا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بٹلہ ہاؤس علاقے میں ڈی ڈی اے کی جانب سے جاری انہدامی کارروائی پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے اس پر فوری طور پر عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت نے ڈی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سے 10 جولائی کو ہونے والی اگلی سماعت سے پہلے ڈی مارکیشن یعنی حدبندی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ جائیداد واقعی اس خسرہ نمبر میں شامل ہے یا نہیں، جس پر ڈی ڈی اے نے کارروائی کرنے کے لئے نوٹس لگائی تھی۔  آپ کو بتا دیں کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک فرد نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی جائیداد کا تعلق خسرہ نمبر 279 سے نہیں ہے، اس کے باوجود ڈی ڈی اے نے اسی خسرہ نمبر کے تحت اس کے خلاف ڈیمولیشن نوٹس یا انہدامی کارروائی کرنے کے لئے نوٹس جاری کر دیا ہے۔

 

ڈی ڈی اے کی جانب سے عدالت میں دعویٰ کیا گیا کہ خسرہ نمبر 279 سے متعلق انہدامی کارروائی کا حکم سپریم کورٹ سے حاصل کیا گیا ہے اور صرف اسی مخصوص خسرہ نمبر پرموجود غیر قانونی تعمیرات کے خلاف نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ڈی ڈی اے نے یہ بھی کہا کہ  دوسرے خسرہ نمبروں پر واقع جائیدادوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی دہلی ہائی کورٹ نے بٹلہ ہاؤس سے متعلق کئی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے انہدامی کارروائیوں پر عبوری روک لگائی تھی اور ڈی ڈی اے کو اپنا موقف واضح کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اب عدالت میں اس معاملے کی اگلی سماعت 10 جولائی کو ہوگی، جبکہ دو دیگر عرضیوں پر سماعت فی الحال 23 جون  تک ملتوی کردی گئی ہے۔

آپ کوبتا دیں کہ بٹلہ ہاؤس  کے کئی علاقوں میں یوپی ایرگیشن اورڈی ڈی اے کی جانب سے نوٹس دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 26 مئی کو ڈی ڈی اے کی جانب سے ان لوگوں کو جگہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم، نوٹس ملنے کے بعد مقامی افراد نے سخت اعتراض جتایا اور  اچانک بے دخل کرنے کی سازش قراردیا۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع تک نہیں دیا جا رہا اور انہیں بغیر کسی وضاحت کے بےدخل کیا جا رہا ہے۔ بہرحال فی الحال بٹلہ ہاؤس میں نہ تویوگی حکومت کا بلڈوزر چلے گا اور نہ ہی ڈی ڈی اے کی طرف سے کارروائی ہوگی۔ اب 23 جون کو بھی دہلی ہائی کورٹ میں سنوائی ہوگی۔ اورپھر10 جولائی کوپورے معاملے کی سماعت ہوگی۔ تب ہائی کورٹ کا فیصلہ کیا رہتا ہے،  اس پرسبھی کو نگاہیں مرکوز ہیں۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

5 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

6 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

6 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

6 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

6 hours ago