نئی دہلی: لوک سبھا کے سرمائی اجلاس میں پیر کے روز قومی ترانے ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر خصوصی بحث ہوئی۔ اس دوران سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی اُن عظیم آدمیوں اور نظریات کو بھی اپنا لینے کی کوشش کر رہی ہے جو دراصل اس کے نہیں ہیں۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ’’وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہم سب قومی ترانے کو یاد کر رہے ہیں، یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔ ہمیں بَنکِم چَندَر چٹوپادھیائے کو بھی یاد کرنا چاہیے جنہوں نے ایسا شاندار گیت ملک کو دیا، جس نے لاکھوں لوگوں کو جگایا، ان میں جوش اور حب الوطنی کی لہر دوڑا دی‘‘۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران وندے ماترم نے ہندوستانیوں کو ایک طاقت، ایک حوصلہ اور ایک اجتماعی جذبہ دیا۔ ’’جب انگریزوں کے خلاف لڑائی جاری تھی، یہ گیت ہمیں متحد کرتا تھا اور انگریزوں سے ٹکرانے کی توانائی بخشتا تھا۔ کلکتہ کے کانگریس اجلاس میں جب رابندر ناتھ ٹیگور نے یہ گیت گایا، تو یہ گلی گلی، گھر گھر پہنچ گیا۔ جہاں بھی جدوجہد ہوتی تھی، وہاں وندے ماترم کے نعرے سے عوام کو جوڑا جاتا تھا‘‘۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ انگریز وندے ماترم کے نعرے سے اس قدر خوفزدہ تھے کہ جہاں یہ نعرہ سنائی دیتا، وہ لوگوں پر غداری کے مقدمے لگا کر جیل بھیج دیتے تھے۔ ’’بنگال میں جب اسکول کے بچوں نے کلاس روم میں یہ گیت گایا، تب بھی انگریزوں نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے گیت پر پابندی بھی لگائی، مگر عوام نے اسے نہیں مانا اور گیت کو تحریک آزادی کی روح بنا کر آگے بڑھاتے رہے‘‘۔ بحث کے دوران بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے ایس پی صدر نے کہا کہ ’’بی جے پی بہت کچھ اپنانا چاہتی ہے۔ آج جب ہم وندے ماترم پر گفتگو کر رہے ہیں، تو یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بی جے پی اکثر اُن عظیم آدمیوں کو بھی اپنانا چاہتی ہے جو ان کے نظریاتی دائرے میں کبھی شامل نہیں رہے‘‘۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جب بی جے پی کی تشکیل کا وقت تھا، تب اس کے پہلے صدر کے خطاب کو لے کر بحث جاری تھی کہ آیا پارٹی سیکولر راستہ اختیار کرے گی یا نہیں۔ ’’بہت مخالفت کے بعد جب ان کا پہلا قومی صدر منتخب ہوا، تو انہوں نے اپنے خطاب میں سماجوادی تحریک، سماجوادی نظریات اور سیکولر فکر کی بات کی، جسے آج بی جے پی خود بھلا دیتی ہے مگر تاریخ کبھی نہیں بھولتی‘‘۔ اکھلیش یادو کے اس بیان کے بعد لوک سبھا میں ماحول کچھ دیر کے لیے سیاسی رنگ اختیار کر گیا اور وندے ماترم کی تاریخی وراثت کے ساتھ موجودہ سیاسی نظریات بھی بحث کا حصہ بن گئے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اڈانی گروپ نے بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت داری کی تجدید کی، جاپان…
وجیندر نے مرکزی وزیر داخلہ کو پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں اور کرناٹک حکومت کے خلاف…
پولیس کے مطابق ملن پردھان کو پرانے مقدمات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔…
بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز اور امریکی کمپنیوں پر کیا ہوگا اثر؟ موجودہ ویزا ہولڈرز اور…
ناگویا کے میزُوہو پارک ایتھلیٹک اسٹیڈیم میں 20ویں ایشین گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب،…
آئیچی-ناگویا ایشین گیمز میں بھارت کے 30 نشانے باز لیں گے حصہ، رائفل، پسٹل اور…